• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 12:08 شام
  • پاکستان

پولیس کی جانب سے اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کی استدعا

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے پمز سانحہ کی ایف آئی آر درج کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سیشن جج راجہ آصف نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔ پولیس کی جانب سے اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی گئی۔

ریاض حنیف ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ پمز واقعہ ساری دنیا کے سامنے ہیں اور قیمتی جانیں گئی ہیں، وزیر اعظم کی جانب سے کس قانون کے تحت انکوائری کمیٹی بنائی گئی، کابینہ کی منظوری کے بغیر کسی انکوائری کمیٹی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

درخواست گزار وکیل نے دلائل دیے کہ جاں بحق بچوں کی دیت 50 لاکھ روپے جبکہ نرس کو کروڑ روپیہ انعام دے دیا گیا، پولیس قانون کے بجائے حکومتی پالیسی پر چل رہی ہے۔

جج راجہ آصف نے استفسار کیا کہ اس طرح کی کوئی اور درخواست کسی اور عدالت میں تو نہیں ہے۔

ریاض حنیف راہی نے بتایا کہ اندراج مقدمہ کی نہیں لیکن کارروائی کے حوالے سے 5 رٹ پٹیشنز دائر ہوئی ہیں۔ جج نے ہدایت کی کہ تمام پٹیشنز کا نمبر دے دیں، آپ کی درخواست پر آرڈر جاری کرو‌ں گا۔

عدالت نے پمز واقعے پر اندراج مقدمہ کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے