• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 12:36 شام
  • پاکستان

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

لندن: برطانیہ کی معروف ویٹرن براڈکاسٹر ڈیم ایسٹر رینٹزن طویل عرصے تک پھیپھڑوں کے کینسر سے نبرد آزما رہنے کے بعد 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈیم ایسٹر رینٹزن کے اہلِ خانہ نے ان کی وفات کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ’انتہائی شاندار خاتون‘ قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق ایسٹر نے مئی 2023 میں پھیپھڑوں کے اسٹیج فور کینسر کا علاج کرانے کی تصدیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ کے طبی معاونت سے زندگی ختم کرنے والے ادارے Dignitas کی رکنیت حاصل کرلی ہے۔

ویٹرن براڈکاسٹر حالیہ برسوں میں انگلینڈ اور ویلز میں طبی معاونت سے زندگی ختم کرنے (assisted dying) کو قانونی حیثیت دینے کی مہم کی ایک نمایاں آواز بن گئی تھیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کریں گی تو سوئٹزرلینڈ کے اس کلینک کا سفر کریں گی۔ بعد ازاں ان کی جسمانی حالت اس قدر کمزور ہوگئی کہ وہ یہ سفر کرنے کے قابل نہ رہیں۔

واضح رہے طبی معاونت سے زندگی ختم کرنا ایک متنازع مسئلہ ہے اور اس مسئلے پر برطانیہ، فرانس، آئرلینڈ، جرمنی، کینیڈا، امریکا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک میں قانونی و اخلاقی بحث ہورہی ہے۔

فاطمہ زہرا مراکش کی پہلی اور عرب دنیا کی دوسری خاتون وزیر اعظم بن گئیں

پرتگال، یونان، برطانیہ، آئرلینڈ، قبرص، کروشیا، ایسٹونیا، بلغاریہ، رومانیہ، پولینڈ، ہنگری اور کئی دیگر یورپی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے