• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 8:08 شام
  • پاکستان

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل

سی سی پی نے انشورنس سیکٹر میں مسابقت، کلیمز کی بروقت ادائیگی اور صارفین کا اعتماد بڑھانا ناگزیر قرار دے دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سی سی پی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے، پاکستان میں فی کس انشورنس اخراجات تقریباً 12 امریکی ڈالر ہیں۔

سی سی پی کی اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ انشورنس سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن اور جدید نظام کو فروغ دیا جائے، پاکستان میں 44 انشورنس کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور تقریباً ایک کروڑ 4 لاکھ پالیسیاں موجود ہیں۔

یہ پڑھیں: انشورنس پالیسی ہولڈرز کے لیے بڑی خبر ، نئے اور سخت قوانین نافذ

مارکیٹ ارتکاز، نئی کمپنیوں کے داخلے میں رکاوٹیں اور کلیمز میں تاخیر اہم چیلنجز قرار دیے گئے ہیں، عوام میں انشورنس سے متعلق معلومات کا عدم توازن بھی مسابقتی چیلنجز ہیں۔

سی سی پی اجلاس میں انشورنس پریمیم کی آسان ادائیگی اور کلیمز کی مؤثر و بروقت سیٹلمنٹ پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ پالیسی کی خریداری سے کلیم کی ادائیگی تک ڈیجیٹلائزیشن کا فائدہ صارف کو ملنا چاہیے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے