ایرانی حکام کے مطابق یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی تھی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تازہ تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے اس معاملے میں اپنی پوزیشن کو حد سے زیادہ آگے بڑھا دیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان برقرار ہے۔
ٹرمپ نے امریکی نیوز پلیٹ فارم ایگزیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن تہران کی پیشکش وہ معاہدہ نہیں جسے امریکا قبول کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول یہ ایسی پیشکش ہے جس پر شاید امریکا ایک سال پہلے رضامند ہوسکتا تھا۔
ایران نے حال ہی میں امریکا کو ایک سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تجویز ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی تھی۔ امریکی صدر نے ہفتے کے روز اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔
تاہم ٹرمپ نے تازہ گفتگو میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع رکھتے ہیں۔ امریکی اور علاقائی ذرائع کے مطابق قطر سمیت ثالث ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ بالواسطہ مذاکرات کا ایک نیا دور پیر سے بھی شروع ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران سفارتی حل چاہتا ہے اور ثالثوں کے ذریعے امریکا کے حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے اور مزید مذاکرات کے لیے اس کی شرائط کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز اس تنازع میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ عالمی تیل کی تجارت کا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں، تاہم ثالثی کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے سے سفارتی رابطے کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
