• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 10:49 صبح
  • پاکستان

امریکی وزیر خزانہ ایسے انداز میں بات کر رہے ہیں جیسے پوری دنیا امریکا کا ’پچھواڑا‘ ہو، کاظم غریب آبادی

ایران نے امریکا کی جانب سے دیگر ممالک پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد ممالک اپنے مفادات اور ترجیحات کے مطابق ایران کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ خود کریں گے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس مؤقف پر ردعمل دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نے مختلف ممالک پر ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے اپنے نمائندے بھیجے ہیں۔

غریب آبادی نے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ ایسے انداز میں بات کر رہے ہیں جیسے پوری دنیا امریکا کا ’پچھواڑا‘ ہو۔ ان کے مطابق خودمختار حکومتیں ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا فیصلہ اپنے مفادات کی بنیاد پر کرتی ہیں، نہ کہ امریکی محکمہ خزانہ کے احکامات پر۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کا دور ختم ہونے کے قریب ہے۔ ان کا یہ بیان امریکا کی جانب سے ایران کی فضائی اور مالی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانے کی حالیہ کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کی ہدایت پر مختلف ممالک سے رابطوں کے لیے ٹیمیں دنیا بھر میں بھیجی گئی ہیں اور واشنگٹن ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بیسنٹ نے ترکیہ، عمان اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایرانی ایئرلائنز اور مالیاتی شعبے سے متعلق بعض اقدامات کو امریکی دباؤ کی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا۔

دوسری جانب ایران اس امریکی مہم کو اپنے خلاف معاشی دباؤ قرار دے رہا ہے اور مختلف ممالک سے اپنے تجارتی و اقتصادی روابط برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

بسنت از اعزام تیم به کشورها برای دستور دادن درباره روابط اقتصادی با ایران سخن می‌گوید، گویی جهان را حیاط خلوت خود میپندارند. دولتهای مستقل روابط با ایران را بر اساس منافع و مصالح خود تعیین می‌کنند؛نه دستورات خزانه‌داری آمریکا. دوران تحمیل اراده با تهدید و تحریم رو به پایان است. — Gharibabadi (@Gharibabadi) September 27, 2026

بسنت از اعزام تیم به کشورها برای دستور دادن درباره روابط اقتصادی با ایران سخن می‌گوید، گویی جهان را حیاط خلوت خود میپندارند. دولتهای مستقل روابط با ایران را بر اساس منافع و مصالح خود تعیین می‌کنند؛نه دستورات خزانه‌داری آمریکا. دوران تحمیل اراده با تهدید و تحریم رو به پایان است.

اس معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ، آبنائے ہرمز اور ممکنہ سفارتی مذاکرات کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے