• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 11:22 صبح
  • پاکستان

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

بھارتی وزیر نے سوالات کرنے پر نوجوان کو سرِ عام تھپڑ جڑ دیا، ویڈیو وائرل

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

ممبئی(28 ستمبر 2026): بالی ووڈ کے سپراسٹار سلمان خان بھی مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور جعلی ویڈیوز کا شکار بن گئے۔

بالی ووڈ کے سپراسٹار سلمان خان بھی مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور جعلی ویڈیوز کا شکار بن گئے ہیں، جس پر انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایسے مواد تخلیق کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حالیہ دنوں ’رئیلٹی شو بگ باس‘ کے ایک سیزن کی میزبانی کے دوران سلمان خان نے آن لائن ٹرولنگ اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے خطرناک رجحانات پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب جعلی ویڈیوز اور آوازوں کی کلوننگ کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین مسئلہ ہے۔

سلمان خان نے اپنے شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ خود بھی اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کا نشانہ بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’کسی نے اے آئی ویڈیو بنا دی یا وائس ڈبنگ کر دی، جو کہ سراسر غلط ہے۔ اے آئی اتنی ترقی کر چکا ہے کہ یہ واقعی خوفناک ہے۔‘

’’آپ کچھ کہتے ہیں اور کوئی اے آئی کا استعمال کرکے اس میں ردوبدل کر دیتا ہے، یہاں تک کہ کسی کو گالی دلوادی جاتی ہے۔ یہ لوگ کئی مشہور شخصیات کی ایسی ویڈیوز بنا رہے ہیں، جس کا میں خود بھی شکار ہوچکا ہوں‘‘

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا، جو لوگ حقیقت نہیں جانتے، وہ شاید یہ سمجھ کر پوسٹ کر دیں کہ وہاں سلمان خان موجود تھے۔ لیکن جو لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں اور پھر بھی ایسی ویڈیوز بناتے ہیں، وہ کس قسم کے لوگ ہیں؟ ایسے لوگوں کو ضرور سلاخوں کے پیچھے ڈالا جانا چاہیے۔

بالی ووڈ اسٹار کا کہنا تھا کہ جب تک ایسے ایک آدھ بندے جیل نہیں جائیں گے، یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ اس کے لیے ایک سخت قانون بننا چاہیے اور سوشل میڈیا پر سنسرشپ ہونی چاہیے۔

سلمان خان نے عام لوگوں کے لیے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نامور شخصیات کے پاس وسائل ہوتے ہیں اور وہ سائبر سیل سے رجوع کر کے ویڈیوز بنانے والے کا پتہ لگا سکتے ہیں، لیکن عام لوگ اور ان کے اہل خانہ اس طرح کی رسائی اور تعاون سے محروم ہوتے ہیں۔ عام افراد کے لیے اس قسم کے جعلی مواد اور منفی پروپیگنڈے کے نتائج انتہائی سنگین اور تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے