• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 11:20 شام
  • پاکستان

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

بھارتی وزیر نے سوالات کرنے پر نوجوان کو سرِ عام تھپڑ جڑ دیا، ویڈیو وائرل

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

تہران (27 ستمبر 2026): ایران نے جوہری مسائل پر نتیجہ خیز مذاکرات کیلیے امریکا کے سامنے اہم شرائط رکھ دیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نیوز چینل این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ 60 فیصد یورینیم کی افزودگی قانونی ہے اور یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دائرہ کار میں ہے، یورینیم کی افزودگی میڈیکل مقاصد و بعض دیگر چیزوں کیلیے استعمال ہوتی ہے۔

شرائط کے بارے میں عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو جوہری مسائل پر بات چیت کیلیے تیار ہیں، مذاکرات کیلیے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات کا انتخاب ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے، ہم دوبارہ جنگ کے امکان کیلیے مکمل طور پر تیار ہیں، نئی جارحیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں گے خواہ نتائج تباہ کن ہی کیوں نہ ہوں، گزشتہ جنگ میں امریکی صدر نے دو دن میں غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا، اب انہیں جنگ لڑتے ہوئے 8 ماہ گزر چکے لیکن کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو سکا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم ایسے حالات کیلیے مکمل طور پر تیار ہیں، ہم نے گزشتہ 2 جنگوں سے سبق سیکھا ہے اور حکمت عملی کو بہتر بنایا، انکے رویے دیکھ کر سفارت کاری کی طرف واپس آنے یا دوبارہ بات چیت کی وجہ نہیں بنتی۔

’2025 میں امریکا نے مذاکرات کی پیشکش کی تو ہم نے اسے قبول کیا اور بات چیت کا آغاز کیا، لیکن مذاکرات کے دوران ہی انہوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ 8 ماہ بعد فروری 2026 میں انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی تو ہم نے دوبارہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، لیکن پھر عین بات چیت کے دوران حملہ کر دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے اختتام پر انہوں نے کسی معاہدے تک پہنچنے کیلیے مذاکرات کی پیشکش کی ہم پھر راضی ہوگئے، 3 ماہ مذاکرات کیے لیکن جس معاہدے پر دستخط کیے اسے توڑنے میں انہیں صرف دو ہفتے لگے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم امریکا کے مڈ ٹرم الیکشن یا اس قسم کے دیگر معاملات کو اہمیت نہیں دیتے، ہمارے لیے صرف ایران کے قومی مفادات ہی اہم ہیں، ہم کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلیے اتنے ہی تیار ہیں جتنے کہ مذاکرات کیلیے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے