• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 9:58 شام
  • پاکستان

آنکھوں کی بیماری کا علاج، نئی دوا امید کی کرن

بدنام زمانہ گینگسٹر کو شادی کیلیے 12 گھنٹے کی رہائی مل گئی

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

لندن : الیکٹرک کاروں میں پہیوں سے متعلق خرابیوں کا نیا مسئلہ سامنے آگیا، عام پیٹرول گاڑی کی نسبت الیکٹرک کار کے ٹائروں میں خرابی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق الیکٹرک گاڑیاں ماحول دوست اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے تیزی سے مقبول ہورہی ہیں، تاہم ایک نئی تحقیق میں ان گاڑیوں کے پہیوں اور ٹائروں سے متعلق ایسے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جو مالکان کے لیے اضافی مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات کا سبب بن سکتے ہیں۔

برطانوی وہیکل رینٹل اینڈ لیزنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی تحقیق میں برطانیہ میں ہونے والے 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ایم او ٹی ٹیسٹس کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق الیکٹرک کار میں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں پہیوں سے متعلق خرابیوں کا امکان تقریباً 1.8 گنا زیادہ پایا گیا۔

تحقیق کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بھاری بیٹریاں ہیں۔ بعض الیکٹرک گاڑیوں کے بیٹری پیک کا وزن تقریباً 299 سے 499 کلوگرام تک ہوسکتا ہے، جو گاڑی کے مجموعی وزن کا تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔

اضافی وزن گاڑی کے پہیوں اور ٹائروں پر معمول سے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے ٹائروں پر اضافی دباؤ کی دوسری اہم وجہ الیکٹرک موٹرز کا فوری ٹارک ہے۔

روایتی پیٹرول انجن کے مقابلے میں الیکٹرک موٹر ایکسیلیریشن کے آغاز ہی میں تقریباً فوری طور پر زیادہ ٹارک فراہم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹائروں پر زیادہ قوت پڑتی ہے اور وقت کے ساتھ ان کے گھسنے یا نقصان پہنچنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

برطانوی تحقیق کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے بعض مالکان کو ٹائروں کی تبدیلی اور دیگر مرمت کی صورت میں اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر مہنگے یا پریمیم ٹائروں کی تبدیلی پر سینکڑوں پاؤنڈز خرچ ہوسکتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے