• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 9:38 شام
  • پاکستان

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام

(24 ستمبر 2026): بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ایک بار پھر ملک گیر احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے مودی سرکار کو مشکل امتحان میں ڈال دیا۔

انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ انتخابات کے انعقاد اور انتخابی فہرستوں کے معاملے پر اگلے 48 گھنٹوں کے اندر استعفیٰ دیں، اگر وہ عہدے پر برقرار رہے تو ملک گیر تحریک اور غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع کیا جائے گا۔

سی جے پی کے شریک کنوینر آشوتوش رانکا نے مودی سرکار سے گیانیش کمار کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئندہ انتخابات روک دیے جائیں، ایس آئی آر سے پہلے کی انتخابی فہرستیں تمام ریاستوں میں بحال کی جائیں، اور نظرثانی کے عمل کی جانچ کیلیے ایک آزاد کمیشن قائم کیا جائے۔

آشوتوش رانکا نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں کی فائلوں کو محفوظ کرے کیونکہ خدشہ ہے کہ انہیں متاثر کیا جا سکتا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے 2023 کے اس قانون کو منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرریوں کو کنٹرول کرتا ہے، اور سول سوسائٹی گروپوں کو شامل کرتے ہوئے ایک نیا قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے کہا کہ گیانیش کمار کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کیلیے استعفیٰ دینا چاہیے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے