• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 4:06 صبح
  • پاکستان

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام

3 سالہ بچی نے منفرد عالمی ریکارڈ بنا لیا

شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ صبا فیصل کے ماضی میں طلاق پر سوگ کے بیان زویا ناصر کا ردعمل آگیا ہے۔

اداکارہ زویا ناصر نے طلاق کے بارے میں سینئر اداکارہ صبا فیصل کے حالیہ تبصروں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بیانیے پر سوال اٹھایا ہے جو ان خواتین کے بارے میں اپنایا جاتا ہے جو ناخوشگوار ازدواجی زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔

زویا نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس نقطہ نظر کو "خطرناک اور مسخ شدہ بیانیہ” قرار دیا۔

ان کے تبصروں نے شادی، طلاق اور خواتین کے فیصلوں کے حوالے سے بدلتے ہوئے رویوں پر آن لائن مزید بحث کو جنم دیا۔

ایک حالیہ انٹرویو کے دوران صبا فیصل نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ماضی کے مقابلے میں آج پاکستانی معاشرے میں طلاق کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

View this post on Instagram A post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)

A post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)

انہوں نے اُس دور کو یاد کیا جب طلاق کو خاندان کے لیے ایک بہت بڑا بحران سمجھا جاتا تھا، انہوں نے کہا کہ خاندان سوگ کی کیفیت سے گزرتے تھے اور والدین اس علیحدگی پر شرمندگی محسوس کرتے تھے اس وقت باقاعدہ سوگ کا ایک دور ہوتا تھا یہاں تک کہ باپ لوگوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہتے تھے۔

صبا نے اس صورتحال کا موازنہ آج کل طلاق کے حوالے سے پائے جانے والے نسبتاً غیر سنجیدہ یا عام رویے سے کیا۔ انہوں نے ایسی صورتحال کا ذکر کیا جہاں خواتین طلاق کے بعد اپنی زندگی میں آگے بڑھتی ہیں اور سفر وغیرہ کرتی ہیں، ان کے خیال میں ایسی تبدیلیاں سماجی اقدار میں گراوٹ کی عکاسی کرتی ہیں۔

صبا فیصل کے ریمارکس پر ہونے والی بحث کے جواب میں زویا نے لکھا کہ اوہ خدایا! میرے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہے! پورے احترام کے ساتھ یہ کتنا خطرناک اور مسخ شدہ بیانیہ ہے۔

صبا کے تبصروں نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔

اداکارہ حرا خان نے بھی صبا کے ریمارکس کی مخالفت کی اور لکھا کہ اپنے والدین کا سر جھک جانا ان کے جنازے اٹھنے سے کہیں بہتر ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے