• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 4:06 صبح
  • پاکستان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تعیناتیوں میں براہ راست اختیار حاصل ہوگا، تجویز

خیبرپختونخوا کی حکومت نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور صوبائی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 میں نئی تجاویز شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی کابینہ کا 59واں اجلاس ہوا، جس میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کابینہ کو پیش کی گئی، ذیلی کمیٹی کی رپورٹ خیبرپختونخوا پولیس حکام کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کی روشنی میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 مزید تجاویز کے ساتھ کابینہ سے منظور کرلی گئی ہے۔

آئی جی پولیس کی تعیناتی کا طریقہ کار

خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ بل کے تحت وفاقی حکومت آئی جی پولیس کے لیے تین افسران کے نام صوبائی حکومت کو بھجوائے گی اور صوبائی حکومت ان میں سے ایک کا انتخاب کرے گی جبکہ موجودہ طریقہ کار میں صوبائی حکومت تین نام وفاق کو بھجوانے کی پابند تھی تاہم مجوزہ نظام اس ترتیب کو الٹ دے گا اور صوبائی حکومت کو انتخاب کا براہ راست اختیار حاصل ہوگا ہے۔

صوبائی کابینہ کے مطابق یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا پاکستان کے کسی دوسرے صوبے میں آئی جی کی تقرری کے لیے ایسا طریقہ کار موجود ہے یا خیبرپختونخوا میں ایک بالکل نیا ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ یہ طریقہ پاکستان بننے سے آج تک کسی بھی صوبے میں نہیں ہے۔

مجوزہ قانون میں ڈی ایس پی سطح پر 25 فیصد براہ راست بھرتی کی تجویز دی گئی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تعیناتیوں میں براہ راست اختیار حاصل ہوگا۔

صوبائی حکومت نے مجوزہ قانون میں پولیس کی مجموعی نگرانی اور پالیسی سازی کا اختیار بڑی حد تک صوبائی حکومت کے پاس رکھنے کی تجویز کی منظوری دی ہے، وزیراعلیٰ پولیس پالیسی بورڈ کے سربراہ ہوں گے، جس کے نتیجے میں پولیس کی اعلیٰ پالیسی سازی براہ راست سیاسی انتظامیہ

کے زیراثر آ جائے گی، پولیس کا سالانہ صوبائی منصوبہ بھی وزیراعلیٰ کی سربراہی میں قائم پولیس پالیسی بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے