• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 3:58 شام
  • پاکستان

1980 کے ’’AI‘‘ وائرل ٹرینڈ نے 45 سال سے مفرور خاتون چور کو کیسے پکڑوایا؟

13 افراد کا سفاک قاتل 40 سال بعد جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار

6 سالہ بچی نے روبک کیوب کا ورلڈ ریکارڈ دو بار توڑ دیا

8 لاکھ عمارتوں کا نیویارک : ٹرک ڈرائیور کے شوق نے دنیا کو حیران کردیا

اردو زبان و ادب میں تابش دہلوی کا نام مایہ ناز غزل گو شاعر، نثر نگار اور براڈ کاسٹر کے طور پر لیا جاتا ہے جن کی آج برسی منائی جارہی ہے۔ تابش دہلوی 93 سال کی عمر میں 23 ستمبر 2004ء کو انتقال کر گئے تھے۔

تابش دہلوی کا تعلق دہلی کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ وہ 9 نومبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید مسعود الحسن تھا۔ کم عمری میں شاعری کا آغاز کیا اور بعد میں دنیائے ادب میں تابش دہلوی کے نام سے معروف ہوئے۔ گھر کے ماحول میں لکھنے پڑھنے اور کتابوں کے مطالعہ کا شوق شروع ہی سے ہوگیا تھا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اپنی والدہ سے حاصل کی، اور بعد میں لکھنؤ کے سینٹ فرانسز کانوینٹ اسکول میں داخلہ لیا۔ 1919ء میں تابش دہلوی کو اُن کے رشتے کے نانا مولوی عنایت اللہ نے حیدرآباد دکن کے مشہور دارُ الترجمہ میں بلوا لیا۔ وہاں ایک قدیم اسکول سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور رام جپسی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ دوسری جنگِ عظیم چھڑی تو تابش صاحب کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے بعد ہجرت کرکے لاہور آگئے۔ چند برس لاہور میں رہنے کے بعد کراچی منتقل ہوگئے۔ یہاں تعلیمی سلسلہ دوبارہ جوڑا اور 1954ء میں اسلامیہ کالج میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا۔ اسی عرصہ میں ان کی شادی ہوگئی۔ بعد میں ایف اے اور پھر 1958ء میں کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کی سند لی۔

پاکستان ہجرت سے قبل وہ 1932ء میں ٹیلی گراف کے محکمے میں ملازم رہے تھے اور کچھ عرصہ ریڈیو سے بھی منسلک رہے، جہاں خبر خوانی کے علاوہ ادبی پروگراموں کی میزبانی ان کو سونپی گئی تھی۔ اس کی وجہ ان کی بھاری آواز اور عمدہ تلفظ و ادائیگی تھا۔ کراچی میں بھی 1963ء تک وہ ریڈیو پر خبریں پڑھتے رہے۔ 1963ء میں وہ براڈ کاسٹ کے شعبے سے بطور پروڈیوسر منسلک ہوگئے اور 1980ء میں سینئر پروڈیوسر کے عہدے تک پہنچنے کے بعد ریٹائر ہوگئے۔ حکومتِ پاکستان نے تابش دہلوی کو تمغائے امتیاز سے نوازا تھا۔

تابش دہلوی کی پہلی نظم یا غزل 1931ء میں دہلی کے مشہور جریدے ’’ساقی‘‘ میں شایع ہوئی تھی۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، مگر غزل کی صنف کے ساتھ نعت گوئی، مرثیہ گوئی میں بھی کمال رکھتے تھے جب کہ دیگر اصنافِ سخن میں ہائیکو، آزاد نظموں کے ساتھ گیت نگاری اور ملّی نغمات بھی تخلیق کیے۔ انھوں نے حیدر آباد دکن میں قیام کے دوران حضرت فانی بدایونی کے آگے زانوئے تلّمذ تہ کیا اور ’’یاد ایّامِ صحبتِ فانی‘‘ کے عنوان سے کتاب بھی لکھی تھی جو ان کی نثر نگاری کی اوّلین یادگار ہے۔ فکر و فن کے اعتبار سے ان کے کلام میں انفرادیت نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں قدیم اور جدید روّیوں کے اظہارِ خیال سے لے کر ہیئت تک بدرجۂ اتم موجود ہے۔ ان کی شاعری جہاں اچھوتی اور منفرد صفات کی حامل نظر آتی ہے، وہیں وہ ایک پختہ کار نثر نگار کے طور پر بھی ’’دید باز دید‘‘ کے وسیلے پہچانے جائیں گے جس میں شخصی خاکے، یادیں اور تذکرے شامل ہیں۔ اردو کے اس معروف شاعر کے مجموعہ ہائے کلام نیم روز، چراغِ صحرا، غبارِ انجم، گوہرِ انجم، تقدیس اور دھوپ چھاؤں کے عنوان سے شایع ہوئے۔

تابش دہلوی کی ایک غزل ملاحظہ کیجیے۔

کسی مسکین کا گھر کُھلتا ہے یا کوئی زخمِ نظر کھلتا ہے دیکھنا ہے کہ طلسمِ ہستی کس سے کھلتا ہے، اگر کھلتا ہے داؤ پر دیر و حرم دونوں ہیں دیکھیے کون سا گھر کُھلتا ہے پھول دیکھا ہے کہ دیکھا ہے چمن حسن سے حسنِ نظر کھلتا ہے میکشوں کا یہ طلوع اور غروب مے کدہ شام و سحر کھلتا ہے چھوٹی پڑتی ہے انا کی چادر پاؤں ڈھکتا ہوں تو سَر کھلتا ہے بند کر لیتا ہوں آنکھیں تابشؔ بابِ نظارہ مگر کُھلتا ہے

تابش دہلوی کی آخری آرام گاہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے