• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 8:28 شام
  • پاکستان

پرانا سامان خریدنے والی فیملی کو سوٹ کیس سے کیا ملا؟ دل دہلا دینے والا واقعہ

مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جہانِ علم و فن میں پاکستان کی چند نام ور شخصیات کی فہرست مرتب کی جائے تو رئیس امروہوی کا نام بھی شامل ہو گا جنھیں‌ ایک فلسفی، شاعر، محقق اور صحافی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، لیکن علمِ نفیسات یا پراسرار علوم سے متعلق موضوعات پر اپنی تحریروں کی وجہ سے بھی مشہور رہے۔ بلند فکر اور عالی دماغ رئیس امروہوی 22 ستمبر 1988ء کو نامعلوم قاتل کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے۔

رئیس صاحب کا تعلق امروہہ کے اس علمی و ادبی گھرانے سے تھا جس کے سربراہ علّامہ شفیق حسن تھے جو شاعر، زبان و ادب کے بڑے عالم، فلسفہ و علمِ نجوم میں ایک جیّد اور معتبر شخصیت مشہور تھے۔ اسی کنبے میں رئیس صاحب کے بھائی سید محمد تقی نے بطور فلسفی اور جون ایلیا نے شاعر و انشا پرداز کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ رئیس امروہوی بھی اپنے فن اور اپنی شخصیت کے کئی منفرد زاویوں کے سبب نمایاں ہوئے۔ ان کا ایک بڑا وصف قادر الکلامی اور برجستہ گوئی تھے۔ وہ اپنے فن میں اس قدر طاق تھے کہ منظوم گفتگو کرنا بھی ان کے لیے کچھ مشکل نہ تھا۔

رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا۔ وہ 12 ستمبر 1914 کو پیدا ہوئے۔ انھو‌ں نے فلسفہ و نفسیات کے موضوعات میں خوب کام کیا اور ادب اور صحافت میں نام و مقام بنایا۔ رئیس امروہوی نے روزنامہ جنگ میں چالیس برس سے زائد عرصہ تک قطعہ نگاری کی۔ ان کا ہر قطعہ رعایت لفظی، نکتہ آفرینی اور لطیف طنز سے سجا ہوتا تھا۔ اسی روزنامہ میں ان کے ہفتہ وار کالم بھی شایع ہوتے تھے جن کا موضوع نفسیات اور نفسیاتی مسائل تھے۔

رئیس امروہوی کے شعری مجموعوں میں ’’الف‘‘ ، ’’ پس غبار‘‘ ، ’’آثار ‘‘ حکایت نے ’’نجم السحر ‘‘ بحضرت یزداں ‘‘اور ’’ملبوس بہار ‘‘ شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی ادب میں ان کے مطالعہ کی جھلک دکھاتی ہے۔ غزل کے علاوہ انھوں نے نظمیں بھی کہی ہیں۔ ان کی دیگر تصنیفات میں مابعدالنفسیات، نفسیات و مابعد النفسیات، عجائبِ نفس، لے سانس بھی آہستہ، جنسیات، عالمِ برزخ، حاضراتِ ارواح، ہپناٹزم، جنات، عالمِ ارواح، المیہ مشرقی پاکستان، اچھے مرزا اور انا من الحسین مشہور ہیں۔

رئیس امروہوی ایک ملنسار، خلیق و بامروت شخص تھے جن کی محفل میں اور گھر پر اہل علم و ادب کے علاوہ اساتذہ، سیاست داں، علماء اور مختلف شعبہ جات سے وابستہ شخصیات شریک ہوتیں اور ان میں نوجوان ادیب اور شاعر بھی شامل ہوتے جنھیں‌ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے