• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 1:16 شام
  • پاکستان

اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کی

انسداد دہشت گردی عدالت میں تھانہ کوہسار احتجاج کیس کی سماعت ہوئی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستیں وکالت نامے نہ ہونے کی وجہ سے واپس کردی گئیں۔ اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی لیگل ٹیم نے اڈیالہ جیل حکام کے خلاف درخواست دائر کردی۔ وکلا کے مطابق اڈیالہ جیل حکام نے وکالت ناموں پر دستخط کرا کے دینے سے انکار کیا، جس کی وجہ سے ضمانت کی درخواستیں دائر نہیں ہوسکیں۔ جج طاہر عباس سپرا نے جیل حکام کو 24 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔

سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے وکلا سے استفسار کیا کہ وکالت نامے مصدقہ نہیں ہیں؟ وکیل زینب جنجوعہ نے کہا کہ دو دفعہ جمعہ، ہفتہ کو اڈیالہ جیل حکام سے ملی بھی ہوں، وہ کہتے ہیں پراسس میں وکالت نامے جائیں گے۔

زینب جنجوعہ نے کہا کہ دونوں وکلا اس کورٹ کی حراست میں ہیں، وکیل کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ ایڈووکیٹ آصف تمبولی نے کہا کہ ایمان مزاری کی والدہ بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، عدالت ان سے بھی تصدیق کر سکتی ہے۔

جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ بغیر دستخط کے ضمانت کی درخواست نہیں لے سکتا۔ وکیل آصف تمبولی نے کہا کہ آپ ہمارے وکالت نامے اپنے پاس رکھ لیں، ان کی تصدیق خود کروا لیں۔

جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ جب وکلا کی باری آتی ہے تو قانون اور ضابطے سب سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راستہ نکالتے ہیں، جیل حکام سے پوچھ لیتے ہیں کہ وکالت نامے دستخط کرا کے کیوں نہیں دے رہے۔ جج نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ پراسس کی پیروی کیوں نہیں کی جا رہی؟

ڈاکٹر شیریں مزاری نے الزام عائد کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جیل ڈی ایس پی لیگل کے کمرے سے گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے دوران دونوں کو مارا گیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ عدالت کچھ تو کرے، وکالت نامے پر دستخط کرا کے کیوں نہیں دیے جا رہے۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری اور وکلا راجہ زاہد، ایمل، آصف تمبولی اور زینب جنجوعہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ ایمان مزاری کی والدہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔

عدالت نے جیل حکام کے خلاف دائر درخواست پر 24 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کردیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے