• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 5:28 شام
  • پاکستان

ملزم آج بھی جیل میں وہی کام کر رہا ہے اور اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر اپنا مکمل نیٹ ورک چلا رہا ہے، وکیل متاثرین

شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے لوٹنے کے کیس میں سپریم کورٹ نے ملزم محمد جہانزیب کی ضمانت منظور کرلی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ایک ہزار سے زائد متاثرین سے رقم حاصل کی، جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد کی ڈگریاں بھی نوکریوں کے لیے لے رکھی تھیں۔ ملزم سے ابھی تک بہت سے نوجوانوں کی ڈگریاں برآمد کرنا باقی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ملزم کے خلاف 600 متاثرین کی براہ راست شکایات بھی موجود ہیں، جبکہ ملزم کے اکاؤنٹ سے 12 کروڑ روپے برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ 41 کروڑ روپے سے زائد کا فراڈ ہے۔

متاثرین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم آج بھی جیل میں وہی کام کر رہا ہے اور اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر اپنا مکمل نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ متاثرین کے وکیل کے مطابق ملزم سے موبائل فون برآمد ہونے پر اڈیالہ جیل کے 8 ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد جہانزیب کے خلاف براہ راست کوئی ثبوت موجود نہیں اور ملزم کا ان تمام معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم اپنے ایجنٹس کے ذریعے رقم وصول کرتا تھا۔

سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد ملزم محمد جہانزیب کی ضمانت منظور کرلی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے