• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 4:46 شام
  • پاکستان

وکالت نامے پر دستخط نہیں ہو رہے، جس سے آئینی حق مجروح ہو رہا ہے، درخواست گزار

لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما میاں حماد اظہر سے فیملی اور وکلا کی ملاقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حماد اظہر کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل ابوزر سلیمان خان نیازی نے بتایا کہ اے ٹی سی جج نے فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کو پولیس سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پولیس انہیں تھانے کے اندر داخل نہیں ہونے دیتی۔ حماد اظہر کا 20 روز کا ریمانڈ دیا گیا ہے جسے چیلنج کرنا ہے، تاہم ملاقات نہ ہونے کے باعث وکالت نامے پر دستخط نہیں ہو رہے اور ان کا آئینی حق مجروح ہو رہا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ وکالت نامے پر دستخط کے لیے سپرنٹنڈنٹ جیل کو درخواست دی گئی؟ وکیل ابوزر سلیمان نیازی نے بتایا کہ ملزم جیل میں نہیں بلکہ پولیس کی کسٹڈی میں ہے۔

جسٹس شہباز رضوی نے سرکاری وکیل سے مؤقف دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ملزم ایک سیاسی شخصیت ہے، روزانہ 50 لوگ ملتے ہیں اور جن 5 کو اجازت نہیں ملتی وہ متاثرہ بن جاتے ہیں۔ سرکاری وکیل کے مطابق ارسلان نامی شخص کتابیں بھی دے کر آیا ہے۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ ریمانڈ چیلنج کرنے کے لیے وکالت نامے کے ساتھ بائیو میٹرک کی بھی ضرورت ہے، جبکہ پولیس کسٹڈی میں موجود ملزمان کو بائیو میٹرک کی سہولت میسر نہیں۔

جسٹس شہباز رضوی نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ریمانڈ چیلنج نہیں ہوسکتا؟ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ان کا یہ مطلب نہیں، درخواست گزار پولیس کو درخواست دے۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ آپ نے خود بیان دیا ہے کہ بائیو میٹرک نہیں ہوسکتی، اس لحاظ سے تو درخواست گزار کی درخواست درست لگ رہی ہے۔

اس دوران وکیل ابوزر سلیمان خان نیازی نے مزید کچھ کہنا چاہا تو عدالت نے انہیں صبر رکھنے اور خاموش رہنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں عدالت نے حماد اظہر کی فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے