• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 11:39 شام
  • پاکستان

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

لاہور (19 ستمبر 2026): وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے خلاف سراپا احتجاج جماعت اسلامی سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کر دی۔

حکومتی اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ختم ہوگیا۔ حکومتی وفد نے سکیورٹی خدشات کے باعث لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی اور یہ بھی یقین دہانی کروائی کہ جلد عوامی سطح پر غیر معمولی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی قیادت کو بتایا کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے اور جلد اس کے وفد کی پاکستان آمد بھی متوقع ہے۔

حکومتی وفد میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔

اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت عوامی مطالبے پر عملی اقدام کرے ورنہ احتجاج اور لانگ مارچ ضرور ہوگا، پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک لانگ مارچ لازم ہوگا، حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں سُپر لانگ مارچ کل کراچی سے شروع ہوگا۔

جماعت اسلامی کے ملک بھر میں 40 سے زائد مقامات پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے جاری ہیں، جبکہ حافظ نعیم الرحمان نے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا اور مذاکرات سے معاملہ حل کرنے کی پیشکش کی تھی۔

احسن اقبال نے لیاقب بلوچ سے رابطے میں بتایا کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، حکومت کل جماعت اسلامی سے مذاکرات کی خواہاں ہے۔

لیاقت بلوچ نے جواب میں کہا تھا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے