• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 7:03 شام
  • پاکستان

عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

ضلع کچہری میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید سمیت دیگر کے خلاف کیس زیر سماعت ہے۔ عظمیٰ بخاری نے فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

عظمیٰ بخاری کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت پر وکیل علی اشفاق نے عظمیٰ بخاری کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، عدالت کو پریشرائز یا دباؤ ڈالنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ وکیل نے عدالت سے فلک جاوید کے وکیل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی۔

میاں علی اشفاق نے توہین عدالت کی درخواست کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عظمیٰ بخاری جرح کے لیے پیش نہیں ہوئی تھیں، عدالتی احکامات کے باوجود مدعیہ عدالت پیش نہ ہو تو قانون میں وارنٹ جاری کرنے کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست عدالتی کارروائی میں تاخیر کی کوشش ہے۔

عظمیٰ بخاری کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ دباؤ سے متعلق عدالت نے اپنے گزشتہ سماعت کے فیصلے میں لکھا ہوا ہے، عدالتیں کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آیا کرتیں۔ یہ کہنا کہ عدالت مدعیہ کے دباؤ میں ہے سراسر غلط ہے۔ وکیل نے عدالت سے فلک جاوید کے وکیل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی۔

وکیل عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ انہیں کمرہ عدالت میں میڈیا کی موجودگی پر مسئلہ ہے، مین اسٹریم میڈیا سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم سوشل میڈیا پر ایکس کے ذریعے جھوٹ پھیلانے والوں سے مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سماعت پر ایک یوٹیوبر نے معافی مانگی تھی جبکہ آج بھی ایک شخص کمرہ عدالت میں موجود ہے جو مسلسل جھوٹ پھیلاتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے بعد ٹویٹس ہوتے ہیں اور میاں علی اشفاق نے عظمیٰ بخاری کو خاموش کروا دیا جیسے ٹویٹس کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق میاں علی اشفاق کو سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ان کے حق میں مہم چلاتے ہیں۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ سماعت پر ایک شخص کمرہ عدالت سے باہر چلا گیا تھا، اس کے باوجود اس نے عدالتی کارروائی سے متعلق ٹویٹس کیے۔

سماعت کے دوران عظمیٰ بخاری کی حاضری معافی کی درخواست بھی دائر کی گئی۔ وکیل عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ایک درخواست لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے اور پیر کے روز اس پر باقاعدہ کارروائی شروع ہونی ہے، درخواست کا فیصلہ ہونے کے بعد کارروائی آگے بڑھائی جائے۔

میاں علی اشفاق نے کہا کہ وہ اس درخواست پر بھی دلائل دیں گے اور پہلے توہین عدالت کی درخواست پر مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں اتنی اخلاق سے گری ہوئی درخواست نہیں دیکھی، 14 مرتبہ کارروائی مدعیہ کی وجہ سے ملتوی ہوئی۔ وکیل عظمیٰ بخاری نے انہیں اپنے الفاظ کے چناؤ کو درست کرنے کا کہا۔

عدالت نے عظمیٰ بخاری کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کرکے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی فلک جاوید کے وکیل کی استدعا پر بھی سماعت کی۔ بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے عظمیٰ بخاری کی توہین عدالت کی درخواست اور حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کہا کہ جو بھی عدالت میں بیٹھتا ہے وہ دل بڑا کرکے بیٹھتا ہے، ہمیں دل بڑا کرنا بھی پڑتا ہے۔ پارٹیز ہماری بچوں کی طرح ہوتی ہیں، وکیل آفیسر آف دی کورٹ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیڈ بریکر لگانے کی بجائے اس کیس کا فیصلہ کریں، وکلا قانونی دلائل دیں اور ٹرائل کو آگے چلنے دیں۔ جج نے کہا کہ ان کے لیے دونوں پارٹیاں ایک جیسی ہیں اور ان کی گفتگو کا یہ تاثر نہ لیا جائے کہ دونوں وکلا میں سے کوئی ایک ان کے لیے مختلف ہے۔

سماعت کے دوران عظمیٰ بخاری کے وکیل نے فلک جاوید کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر کہا کہ یہ بڑی زیادتی ہے، فلک جاوید کو ہر صورت عدالت پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے فلک جاوید دو سال سے جیل میں ہیں، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ اس کیس میں ضمانت پر ہیں۔

وکیل عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ فلک جاوید کے وکیل کے سوشل میڈیا کے لوگوں کے حق میں بولنے کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ ہر پیشی پر جب ملزمہ فلک جاوید عدالت پیش ہوتی ہیں تو ایک وکیل ساتھ موجود ہوتا ہے، سامنے کیمرے والے ہوتے ہیں جن کا تعلق کسی ٹی وی چینل سے نہیں ہوتا۔ وکیل کے مطابق شاید اسی لیے انہیں سوشل میڈیا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذاتی حملہ ہے اور اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے