• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 7:06 صبح
  • پاکستان

ملزم صرف گاڑی چوری کرنے کے لیے گھوٹکی سے کراچی آتا، واردات کے بعد چوری شدہ گاڑی کو کوئٹہ منتقل کرکے فروخت کرتا تھا

جوانی سے بڑھاپے تک جرائم کی دنیا میں سرگرم رہنے والا گھوٹکی کا کار لفٹر کراچی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ مسجد میں نمازی کا بھیس اختیار کرکے باہر کھڑی گاڑیاں چوری کرنے والے ملزم سے اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی) کے تفتیشی افسران نے تفتیش مکمل کرلی، ملزم کے 14 مقدمات پر مشتمل کریمنل ریکارڈ کا بھی سراغ مل گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم صرف گاڑی چوری کرنے کے لیے گھوٹکی سے کراچی آتا، واردات کے بعد چوری شدہ گاڑی کو کوئٹہ منتقل کرکے فروخت کرتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل گلشن اقبال کے ایک پوش علاقے کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران مشتبہ شخص کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ فوٹیج میں ملزم کو مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد باہر نکلتے ہی مہارت سے ایک مہران گاڑی چوری کرکے فرار ہوتے دیکھا گیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اے وی ایل سی نے ملزم کی شناخت کرکے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا اور اسے گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت انصاف علی ولد میر خان کے نام سے ہوئی ہے، جو سال 2000 سے جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

ملزم کے خلاف پہلا مقدمہ 26 سال قبل گاڑی چوری کی واردات کے الزام میں درج ہوا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف مختلف مقدمات درج ہوتے رہے۔ ملزم بھیس بدلنے کا ماہر تھا اور گاڑیاں چوری کرنے کے بعد بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں فروخت کرتا رہا۔

ایس ایس پی اے وی ایل سی خالد مصطفیٰ کورائی نے بتایا کہ ملزم کا 14 مقدمات پر مشتمل کریمنل ریکارڈ پولیس کو ملا ہے۔ گلشن اقبال میں گاڑی چوری کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے ملزم کی شناخت ہوئی تھی۔

دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ فجر کی نماز کے وقت گاڑیاں چوری کرتا اور صبح ہونے سے پہلے ہی چوری شدہ گاڑی کراچی سے باہر منتقل کردیتا تھا۔خالد مصطفیٰ کورائی کے مطابق ملزم نے چوری شدہ گاڑیاں کوئٹہ میں فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہے جبکہ گاڑیوں کے خریدار سے متعلق بھی پولیس کو ریکارڈ مل گیا ہے، جس کی گرفتاری کے لیے اے وی ایل سی کی ٹیم کوئٹہ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کراچی میں زیادہ وقت نہیں گزارتا تھا، گاڑی چوری کرنے کے بعد براہ راست گھوٹکی فرار ہوجاتا تھا۔ایس ایس پی اے وی ایل سی نے بتایا کہ اے وی ایل سی ٹیم کی کاوشوں سے گزشتہ 9 سال کے دوران گاڑی چوری کی وارداتوں کے ریکارڈ میں کمی آئی ہے جبکہ رواں سال 700 سے زائد چوری شدہ گاڑیاں برآمد کی جاچکی ہیں۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ قیمتی گاڑیوں میں ڈبل ٹریکر نصب کریں، کیونکہ کار لفٹر گروہ پہلے ٹریکر کو منقطع کردیتا ہے جبکہ دوسرا ٹریکر پولیس کو گاڑی کا تعاقب کرنے اور ملزمان تک پہنچنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

پولیس نے گرفتار ملزم سے دوران تفتیش سامنے آنے والے دیگر کرداروں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے