سندھ پولیس، عدالتوں، ملازمتوں میں خواتین کا حصہ بہت کم ہے، صنفی مساوات پر مبنی سندھ کی پہلی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش
وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے کی پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ پیش کردی گئی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ میں 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں، صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 فیصد جبکہ خواتین کی 47 فیصد ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو معاون خاص راجویر سنگھ سوڈھو نے سندھ کی پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ پیش کردی جس میں صنفی عدم مساوات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ پر سید مراد علی شاہ نے صنفی مساوات کے لیے ہدفی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ صنفی مساوات پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام صوبائی محکموں کو صنفی فرق کم کرنے کا حکم دیا ہے، تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار میں خواتین کی صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے خواتین اور بچیوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنانے پر زور دیا اور کہا کہ صنفی مساوات پائیدار ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے، جینڈر پیریٹی رپورٹ پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم میں رہنمائی کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی معاون خاص برائے انسانی حقوق راجویر سنگھ سوڈھو نے جینڈر پیریٹی رپورٹ 2024ء پر وزیراعلیٰ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ سندھ میں مردوں کی شرح خواندگی 68 فیصد جب کہ خواتین کی 47 فیصد ہے، دیہی سندھ میں خواتین کی شرح خواندگی صرف 27.52 فیصد ہے،سندھ میں 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 5 تا 16 سال کی عمر کی لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ لڑکیوں کے اسکول، داخلوں اور تعلیم کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے،صوبے میں تعلیم کے شعبے میں صنفی فرق اب بھی بڑا چیلنج ہے۔
رپورٹ میں زچگی کے معاملات کا بتایا گیا، راجویر سنگھ سوڈھو نے بتایا کہ سندھ میں زچگی کے دوران اموات کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے،زچگی کے دوران اموات 314 سے کم ہو کر فی ایک لاکھ پیدائشوں پر 224 ہوگئیں، سندھ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات فی ایک ہزار پیدائشوں پر 24 ہے، سندھ میں صحت کے لیے مختص بجٹ میں مسلسل اضافہ بہتر اقدام ہے، سندھ کا 24-2023ء میں صحت کا بجٹ 214.5 ارب روپے تھا، حکومت سندھ نے 25-2024ء میں صحت بجٹ بڑھا کر 267.54 ارب روپے کیا، حالیہ سال 26-2025ء میں سندھ کا صحت بجٹ 318.22 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
سندھ پولیس سے متعلق بتایا گیا کہ سندھ پولیس میں خواتین کی نمائندگی صرف 4.34 فیصد ہے، سندھ میں پراسیکیوٹرز میں خواتین کا حصہ 18.3 فیصد ہے، ججز میں خواتین کی نمائندگی 13.7 فیصد ہے،سنہ 2024ء میں سندھ میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3,085 کیسز رپورٹ ہوئے، صنفی تشدد کے واقعات خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں، رپورٹ میں خواتین کے لیے انصاف تک رسائی اور حفاظتی نظام مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ میں خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن ایک کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی، انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد 2018ء کے 23 سے بڑھ کر 2024ء میں 53 ہوگئی، سندھ میں سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے خواتین کی فیصلہ سازی اور عوامی نمائندگی بڑھانے پر زور دیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں خواتین کی ملازمتوں کی تعداد 24 لاکھ 80 ہزار سے بڑھ کر 33 لاکھ 20 ہزار ہوگئی، خواتین کی افرادی قوت میں شرکت 43.8 فیصد سے بڑھ کر 46.2 فیصد ہوگئی، خواتین کی معاشی شرکت میں بہتری کے باوجود رکاوٹیں برقرار ہیں، خواتین کے لیے باعزت روزگار تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ڈیجیٹل سہولیات تک محدود رسائی خواتین کی معاشی شرکت میں رکاوٹ ہے۔
وزیراعلیٰ نے صوبائی محکموں کو جینڈر پیریٹی رپورٹ کی روشنی میں پالیسیاں بنانے کا حکم دیا۔ صوبائی محکموں کو صنفی بنیاد پر الگ اعداد و شمار کا نظام مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے سرکاری اداروں میں نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایت کی اور اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین کی ضروریات کو ترقیاتی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی میں شامل کیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ضلعی سطح پر خصوصی اقدامات کی ہدایت دی۔ وزیراعلیٰ نے تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی نمائندگی میں صنفی فرق ختم کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023ء میں سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی، سندھ کی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2.57 فیصد رہی، سندھ میں ہر 100 خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 108.76 ہے۔
