• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 6:18 شام
  • پاکستان

جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے جمعرات کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

میر رضا کیس میں قائم جوڈیشل کمیشن نے کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ پرویز احمد شیخ، علیشاہ، کاظم اور عمیر کو 21 ستمبر کے لیئے نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے جمعرات کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ تحریری حکم نامے کے مطابق کمیشن نے سینیئر پولیس افسران کو کمیشن میں طلب کرنے کے بجائے تحریری جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیشن نے کارروائی کے دوران تفتیشی افسر شبیر لغاری کا بیان ریکارڈ کرلیا۔ کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد کا موقف بھی سنا۔ احمد نے میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات کرکے بات کرنے کے لئے وقت مانگا۔

اہلخانہ سے گفتگو کے بعد اگر احمد مزید کچھ کہنا چاہیں تو حلف نامے کے ذریعے موقف پیش کرسکتے ہیں۔ حلف نامے کے ذریعے دیا گیا بیان بھی عوام کے لئے دستیاب ہوگا۔

تھانہ فیروز آباد اور گلستان جوہر جے روزنامچہ سیل شدہ حالت میں کمیشن کو موصول ہوئے۔ بدقسمتی سے روزنامچہ سے متعلق گواہان کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ کئے جاچکے تھے۔ روزنامچوں کو اسی حالت میں سندھ حکومت کے فوکل پرسن کو واپس کردیئے گئے۔

کمیشن نے نجی بینک کے سی ای او اور ڈویژن سربراہ کو کمیشن کی درخواست پر تعاون کرنے پر سراہا۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان اور تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی قابل احترام افسران ہیں۔ کمیشن سینیئر پولیس افسران سے سوالات کرنا چاہتا ہے۔

سینیئر افسران کے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے تحریری سوالات ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وکیل تجمل لودھی کمیشن کے سوالات دونوں افسران تک پہنچانے اور سیل شدہ جوابات پہنچائیں گے۔ فوکل پرسن ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ وکیل تجمل لودھی کی فیس کی ادائیگی یقینی بنائیں۔

یڈیشنل آئی جی کراچی اور آزاد خان اور ڈی آئی جی عامر فاروقی آئندہ جمعرات تک اپنے جوابات جمع کروائیں۔ کمیشن کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے میں وقت کی کمی کا سامنا ہے۔

میر رضا کے اہل خانہ 21 ستمبر تک افسران سے متعلق اپنے سوالات کمیشن کو فراہم کرسکتے ہیں۔ اہلخانہ کے سوالات بھی دونوں پولیس افسران کو بھجوائے جائیں گے۔ تحریری حکم نامہ کے مطابق کمیشن سینیئر پولیس افسران کے جوابات بھی عوام کے دستیابی یقینی بنائے گا۔

آئندہ اجلاس کے لئے ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ پرویز احمد شیخ، علی شاز، کاظم، احمد حسن شیخ اور ڈاکٹر اسامہ کو نوٹس جاری کئے جاتے ہیں۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ شیخ کا بیان دوبارہ ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو پیر کیلیے نوٹس جاری کر دیے۔

ڈاکٹر اسامہ شیخ نے میر رضا کا پہلا پوسٹمارٹم کیا تھا۔ پیر کو ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ پرویز احمد شیخ کو بھی طلب کرلیا۔ کمیشن نے علی شاہ، کاظم اور عمیر کو بھی پیر کو طلب کرلیا۔ کمیشن کی کارروائی 21 ستمبر کو ہوگی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے