• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 11:05 صبح
  • پاکستان

خواب آنا انسانی نیند کا ایک قدرتی حصہ ہے، تاہم بعض خواب بار بار آنے کی وجہ سے خاص توجہ حاصل کرتے ہیں

کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ کئی دنوں یا مہینوں بعد بھی ایک ہی خواب دوبارہ آپ کی نیند میں آجاتا ہے؟ کسی کھائی میں گرنے، اسکول یا دفتر کے لیے دیر ہوجانے یا کسی قریبی شخص کو دور جاتے دیکھنے جیسے خواب بعض افراد کو بار بار پریشان کرسکتے ہیں۔

خواب آنا انسانی نیند کا ایک قدرتی حصہ ہے، تاہم بعض خواب بار بار آنے کی وجہ سے خاص توجہ حاصل کرتے ہیں۔ کچھ خواب خوفناک نہ ہونے کے باوجود انسان کو اچانک گہری نیند سے جگا دیتے ہیں، جبکہ بعض منفی خواب بیدار ہونے کے بعد بھی دیر تک ذہن پر اثر انداز رہتے ہیں۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے شعبہ نفسیات کی لیکچرر اور خوابوں کی محقق ڈیرڈرے بیرٹ کے مطابق بار بار آنے والے خواب اکثر زندگی کے گہرے تجربات یا ایسے مسائل سے تعلق رکھتے ہیں جن کا سامنا انسان حقیقی زندگی میں مسلسل کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر خواب ایک ہی صورت میں بار بار نہیں آتے، اسی لیے کسی ایک خواب کا دو یا اس سے زیادہ مرتبہ آنا قابلِ توجہ ہوسکتا ہے۔ ایسے خواب بعض افراد کو مہینوں بلکہ برسوں کے دوران بھی وقفے وقفے سے آسکتے ہیں۔

ہر بار آنے والے خواب کا مطلب پیچیدہ ہونا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بار بار خود کو اسکول یا کام پر دیر سے پہنچتے دیکھتا ہے تو ممکن ہے وہ حقیقی زندگی میں کسی ذمہ داری کے لیے اپنی تیاری یا کارکردگی کے حوالے سے پریشان ہو۔ تاہم خواب کا تعلق اس شخص کے کسی خاص معاملے سے جذباتی وابستگی یا ذہنی کیفیت سے بھی ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر، جسے پی ٹی ایس ڈی کہا جاتا ہے، اور اضطراب میں مبتلا افراد میں بار بار ایک جیسے خواب آنے کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔ پی ٹی ایس ڈی کے شکار بعض افراد کو انتہائی واضح اور شدید خواب آتے ہیں جو انہیں نیند سے جگا دیتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسئلہ ان کی نیند کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

نیند کا معمول بھی خوابوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ رات دیر تک کام کرنا، مناسب نیند نہ لینا اور رات کے وقت کیفین کا استعمال نیند کے معیار کو متاثر کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں خواب زیادہ واضح یا یاد رہنے والے محسوس ہوسکتے ہیں۔

ڈیرڈرے بیرٹ کے مطابق جب ذہن مسلسل مصروف رہتا ہے تو انسان کے تجربات اور خیالات کی ذہنی پروسیسنگ کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتی ہے۔ بسا اوقات یہ عمل پسِ منظر میں چلتا رہتا ہے اور اس کے اثرات خوابوں میں نظر آتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے