چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو
ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا
نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا
انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟
لندن : سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل پائپ لائن ڈرون حملوں کے بعد بند ہونے سے عالمی تیل کی سپلائی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
اس اہم ترین ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کی بحالی میں مزید تاخیر کی صورت میں اسے تیل کے ذخائر میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پائپ لائن چند روز میں بحال نہ ہوئی تو عالمی منڈی میں روزانہ 40لاکھ بیرل تک تیل کی کمی پیدا ہوسکتی ہے۔
سعودی تیل کے خریداروں اور عالمی مارکیٹ سے وابستہ تاجروں کے مطابق اگر یہ پائپ لائن چند روز کے اندر دوبارہ فعال نہ ہوئی تو سعودی عرب کے پاس برآمدات جاری رکھنے کے لیے موجود تیل کے ذخائر بھی ختم ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 فیصد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سعودی عرب کی یہ اہم پائپ لائن جزیرہ نما عرب کے صحرائی علاقے سے گزرتے ہوئے ملک کے مشرقی حصے سے تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔
گزشتہ 6 ماہ کے دوران آبنائے ہرمز میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے سعودی عرب کو نسبتاً محفوظ رکھنے میں اس پائپ لائن نے اہم کردار ادا کیا اور اس کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل ینبع منتقل کیا جاتا رہا۔
تاہم گزشتہ روز ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد پائپ لائن بند ہونے سے سعودی تیل کی ترسیل کو شدید دھچکا لگا ہے، سعودی حکام نے تاحال پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات یا مرمت مکمل ہونے کے متوقع وقت سے متعلق واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔
ذرائع کے مطابق پائپ لائن کی بحالی میں پانچ سے چھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں، تاہم بعض دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ مرمت اس سے پہلے مکمل ہوسکتی ہے اور جزوی طور پر تیل کی پمپنگ بھی مرمت کے دوران بحال کی جاسکتی ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع میں موجود تیل کے ذخائر برآمدات کو صرف 5 سے 7 دن تک برقرار رکھنے کے لیے کافی ہیں۔
سعودی عرب مصر کی بندرگاہوں عین سخنہ اور سیدی کریر سے بھی چند روز تک اپنے خریداروں کو تیل فراہم کرسکتا ہے، تاہم یہ ذخائر بھی مستقل بنیادوں پر برآمدات جاری رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
صنعتی اندازوں کے مطابق ینبع میں تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ عین سخنہ اور سیدی کریر کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بالترتیب ایک کروڑ 80 لاکھ اور 2 کروڑ بیرل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ذخائر مکمل طور پر بھرے ہوئے نہیں اور پائپ لائن کی بحالی کے بغیر بالآخر ختم ہوجائیں گے۔
عالمی تیل منڈی پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں سے تیل کی ترسیل میں کمی کے باعث سعودی عرب کی تیل سپلائی اگست میں تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، ایجنسی کے مطابق رواں سال عالمی تیل سپلائی میں یومیہ 57 لاکھ بیرل، یعنی تقریباً 6 فیصد کمی متوقع ہے۔
ادھر یمن میں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات نے بھی صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے۔
جنگ سے قبل مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈی کو روزانہ تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل فراہم کیا جاتا تھا، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کم ہوکر تقریباً 60 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔
سعودی عرب نے اوپیک کو بتایا تھا کہ اگست میں اس کی تیل پیداوار کم ہوکر صرف 62 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ جنگ شروع ہونے سے قبل فروری میں سعودی تیل کی پیداوار ایک کروڑ 9 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔
ماہرین کے مطابق اگر مشرق تا مغرب پائپ لائن جلد بحال نہ ہوئی تو سعودی عرب کی برآمدات میں مزید کمی عالمی منڈی میں تیل کی قلت کو بڑھا سکتی ہے، جس کے اثرات ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کے باعث امریکی بانڈز کی پیداوار 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔
