• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 5:17 شام
  • پاکستان

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

اے آئی کمپنی اینتھروپک کے بڑے تحقیق کار جیکب کاکسن کے خدشات نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا، جس میں انھوں نے کہا مصنوعی ذہانت 2030 تک دنیا سے انسانوں کا خاتمہ کرسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹیکنالوجی جو آج ہمارے سوالوں کے جواب دیتی ہے، تصاویر بناتی ہے، علاج میں مدد دیتی ہے اور ہماری روزمرہ زندگی آسان بنا رہی ہے، اگر کل اتنی طاقتور ہوجائے کہ انسان خود اسے قابو نہ رکھ سکے تو کیا ہوگا؟

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کے ماہرین کو اسی سوال پر تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

دنیا کی معتبر ترین اے آئی کمپنیوں میں شمار ہونے والی کمپنی ‘اینتھروپک’ (Anthropic) کے تین سینیئر محققین نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اگلے ایک عشرے (2030ء) کے اندر پوری انسانیت کا خاتمہ کر سکتی ہے، جس کے بعد ایک محقق نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

اینتھروپک اور اوپن اے آئی کے سابق محقق جیکب کاکسن نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کمپنیاں انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور خودکار بہتری کی صلاحیت رکھنے والی ‘سپر انٹیلی جنس’ بنانے کی دوڑ میں انسانی زندگیوں سے جوا کھیل رہی ہیں۔

اینتھروپک کے موجودہ سینیئر محقق ایوان ہبنگر نے کاکسن کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سچ میں مانتے ہیں کہ اے آئی تمام انسانوں کو مار سکتی ہے، اور اگلے 10 سال میں ایسا ہونے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال سپر انٹیلی جنس کو انسانوں کے تابع رکھنے کا کوئی پلان موجود نہیں ہے، اے آئی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی میں کسی سے پیچھے رہنے کو تیار نہیں اور مصنوعی ذہانت خودبخود بہتر ہونے اورآگے بڑھنےکی صلاحیت رکھتی ہے ، جو ایک خوفناک حقیقت ہے کہ مستقبل میں اے آئی تباہی مچاسکتی ہے۔

کمپنی کے اوور سائیٹ لیڈ سیموئیل مارکس نے انکشاف کیا کہ اے آئی ڈویلپرز مانتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اگلے چند سالوں میں انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے، اور کمپنی میں جتنا سینیئر عہدیدار ہوتا ہے، وہ اس خطرے سے اتنا ہی زیادہ خوفزدہ ہے۔

کمپنی کے ترجمان نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطرات کے بارے میں ہمیشہ شفاف رہے ہیں اور انڈسٹری میں سب سے مضبوط سیکیورٹی فریم ورک پر عمل پیرا ہیں۔

یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین اور صدر گریگ بروکمین نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اے آئی ماڈلز کی سیکیورٹی اور سائبر صلاحیتوں کا غلط تخمینہ لگایا تھا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے بھی جدید مصنوعی ذہانت کو انسانی بقا کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری توجہ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ مشینیں انسانوں کے خلاف ہوجائیں، بلکہ خدشہ یہ بھی ہے کہ طاقتور اے آئی اہم کمپیوٹر نظام، معلومات اور بنیادی سہولیات پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم اے آئی کو انسان کا مددگار بنا رہے ہیں، یا انجانے میں ایسی طاقت تخلیق کر رہے ہیں جسے کل قابو کرنا مشکل ہوجائے گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے