• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 7:32 صبح
  • پاکستان

مقبوضہ کشمیر گزشتہ آٹھ دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر کا شکار ہے، سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ

چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا ہے کہ پاکستانی اور کشمیری یک جان اور دو قالب ہیں پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔

سفارتخانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف واضح الفاظ میں عالمی برادری کے سامنے پیش کیا جو قابل تحسین ہے۔

جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران او آئی سی رابطہ گروپ میں شامل رکن ممالک نے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید کی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و سلامتی کا حصول مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے عین مطابق ہو۔

رانا قاسم نون کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں پاکستان کی شاندار کامیابی نے دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر کی اہمیت مزید اجاگر کی جس نے جنوبی ایشیا کو ایٹمی جنگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے 81ویں سیشن میں شرکت کے بعد واشنگٹن دورے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کے دیرپا اور پائیدار حل کی جانب مبذول کرانا ہے۔

اس موقع پر سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر گزشتہ آٹھ دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر کا شکار ہے اور کشمیری شہدا کی لازوال قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ تنازع کشمیر کی حل طلب حیثیت بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے مسلمہ ہے۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر قانون، تاریخ، جغرافیہ، مذہب اور معاشرت کا وزن پاکستان کے حق میں ہے تاہم کامیابی کے لیے معیشت اور سیاست پر توجہ اور مسلسل محنت ناگزیر ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

پریس بریفنگ کے اختتام پر چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے تمام صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے