اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان
سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل
چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل
دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا
کراچی (10 ستمبر 2026): کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے پر تشدد کے کیس میں پولیس نے مرکزی ملزم کونین علی گوہر شاہ کو گرفتار کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق مرکزی ملزم کونین علی گوہر شاہ کو سچل تھانے منتقل کیا جا رہا ہے، ملزم کی گرفتاری کیلیے ایسٹ پولیس کی جانب سے کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے، پولیس پارٹی نے کونین علی گوہر شاہ کو تعاقب کے بعد گرفتار کیا۔
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ کونین علی گوہر شاہ موبائل فون بند کر کے موومنٹ کر رہا تھا۔
واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مرکزی ملزم کی عدم گرفتار پر پولیس کی سخت سرزنش کی گئی تھی جبکہ چیئرمین نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔
سچل تھانے میں پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں کونین علی گوہر شاہ سمیت دیگر افراد نامزد ہیں۔
پروفیسر نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ میں چیئرمین ہوں، گھر سے بھتیجے ڈرائیور وحید کے ساتھ یونیورسٹی جا رہا تھا، صفورہ چوک سندھ گرین ہوٹل کے قریب ایک گاڑی نے میری گاڑی کا بونٹ توڑا۔
مقدمے کے متن کے مطابق گاڑی والے جانے لگے تو میں نے کہا کہ غریب بچے کی گاڑی توڑ دی ازالہ کریں، نام پوچھا تو ملزم مشتعل ہوگئے، انہوں نے مجھے اور بھتیجے کو پستول کے بٹ مارے، دو گن مین سینے اور سر پر بٹ مارتے رہے، زخمی ہو کر گرے تو مزید 4 افراد آگئے۔
عارف خان ساقی نے بتایا تھا کہ ہمیں مارا پیٹا گیا اور ہوٹل لے گئے جہاں حبس بے جا میں رکھا اور وہاں بھی تشدد کیا، ملزمان نے ہوائی فائرنگ کی میرے بھتیجے کی گاڑی بھی ان کے پاس ہے، پولیس نے ہماری جان چھڑائی ملزمان موقع سے بھاگ گئے، مجھے پتا چلا ایک ملزم کا نام کونین گوہر علی شاہ ہے، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
