• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 8:57 شام
  • پاکستان

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام

کراچی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا شہر ہی نہیں سب سے بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔ اس شہر کا ایک وصف یہ بھی ہے اس کی آغوش میں پاکستان کے کونے کونے سے روزگار کی خاطر آنے والے دن بھر کی مشقت اور بھاگ دوڑ کے بعد تھک کر سو رہتے ہیں۔ مگر کراچی کے حال اور مستقبل کے لیے فیصلہ سازی اسلام آباد میں‌ کی جاتی ہے اور ان فیصلوں سے براہِ راست شہر کی گلیوں، سڑکوں، کارخانوں میں جاری روزگار اور لوگوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

معیشت داں اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کے علاوہ شہر کے وسائل اور تعمیر و ترقی کے حوالے سے مختلف اداروں کی رپورٹوں‌ میں اُن عوامل، اسباب اور اُن فیصلوں کی نشان دہی کی جاتی رہی ہے جن کا اثر کراچی کی معیشت اور روزگار پر پڑتا ہے اور اس وقت ایک ایسا ہی فیصلہ زیرِ بحث ہے۔ 23 ستمبر کو نیپرا ٹربیونل نے کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے اثرات کراچی کے شہریوں کی زندگی کے ساتھ ساتھ یہاں کی تجارت اور صنعت پر بھی پڑیں گے۔

ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے نظام میں ہونے والی چوری یا اس کا ضیاع ہے۔ اسی وجہ سے ملک کا بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہے۔ گرڈ سے بجلی کی سپلائی ناہموار ہونے کے ساتھ ساتھ بجلی کے نظام میں سرکولر ڈیٹ یا گردشی قرضہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس گردشی قرضے سے بچنے کے لئے حکومت اپنی ملکیتی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری چاہتی ہے اور اس حوالے سے نجکاری کمیشن بہت سرگرم بھی ہے۔ مگر جس طرح کراچی میں کے- الیکٹرک کے ساتھ کیا جارہا ہے، اس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہونا فطری ہے۔

کے-الیکٹرک نے سن 2023 میں نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواست جمع کرائی۔ نیپرا کا فیصلہ ٹیرف کے اجرا کی مقررہ تاریخ کے تقریبا دو سال بعد جاری ہوا۔ نیپرا نے اپنا پہلا فیصلہ جون 2025 میں جاری کیا اور ملٹی ایئر ٹیرف 39.97 روپے پر مقرر کیا گیا۔ مگر اس فیصلے کا اطلاق دو سال قبل یعنی جولائی 2023 سے لے کر جون 2025 تک پر بھی ہونا تھا۔ مگر بعد ازاں نیپرا نے وفاقی وزارت برائے توانائی کی درخواست پر نظر ثانی کرتے ہوئے ملٹی ایئر ٹیرف 32.37 روپے کر دیا تھا۔

بظاہر تو یہ مستحسن اقدام ہے کہ کے الیکٹرک کا ٹیرف کم کردیا گیا۔ اور اس سے عوام کو فائدہ ہوگا مگر اصل بات یہ ہے کہ عوام کو تقریبا 28 ارب روپے سے زائد کا وہ اضافی بوجھ اٹھانا پڑے گا جس کا ریلیف وہ پہلے ہی ادا کر چکے ہیں۔ اس فیصلے کی وجہ سے کراچی کے شہریوں کو ایک سال تک فی یونٹ اضافی 2.5 سے 3.5 روپے ادا کرنا پڑیں گے۔ کراچی کے شہریوں پر یہ اضافی بوجھ ملک میں رائج یکساں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے باعث ہوگا۔

اس فیصلے سے کراچی کے شہریوں کا تڑپنا تو بنتا ہے مگر اس کا اثر نیپرا پر نہیں پڑے گا کیونکہ نیپرا کے افسران تو اسلام آباد میں بیٹھے ہیں۔ اور یوٹیلیٹی کو اپنے بلوں میں جب دو سال کی فیول ایڈجسمنٹ شامل کی جائے گی تو عوام اسی سے بدظن ہوں گے۔

چونکہ صنعت کار اپنی لاگت اور اخراجات اور قیمت فروخت کا ہر روز حساب کتاب کرتے ہیں۔ اس لئے یہ 28 ارب روپے کا اضافی بوجھ عام صارفین پر ہی نہیں‌ بھاری پڑے گا بلکہ یہ کراچی کی صنعتوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گا۔ کیونکہ سال 2024 اور 2025 میں صنعت کار اپنے سستے ٹیرف کی بنیاد پر مصنوعات کو ملکی اور غیر ملکی مارکیٹ میں فروخت کرچکے ہیں اور اس طرح ان کے سودے بری طرح متاثر ہوں گے۔ اسی لئے کراچی کی صنعتوں نے فیول چارجز ایڈجسمنٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناع لے رکھا ہے۔ اور اگر نیپرا ٹربیونل کی طرح ہائیکورٹ سے بھی ان کی درخواست خارج ہو جاتی ہے تو کراچی کی صنعتوں کو بڑا گھاٹا ہوگا۔

نیپرا کے پہلے منظور شدہ ٹیرف کی وجہ سے سال 2024 میں شہر کو بجلی فراہم کرنے والی یوٹیلٹی جو کہ 4 ارب روپے منافع میں تھی فوری طور پر 80 ارب روپے خسارے میں چلی گئی۔ کمپنی کے اس خسارے کی وجہ سے شہر میں بجلی کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ کیونکہ بینکوں نے ریگولیٹر کے فیصلوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے یقینی کی صورت حال اور یوٹیلیٹی کے منافع کے خسارے میں بدل جانے کی وجہ سے اس کو قرض دینے میں ہچکچاہٹ کا سامنا ہے۔ بینکوں نے ایک طرف تو کے الیکٹرک کو مزید قرض دینا بند کردیا ہے اور دوسری طرف اس پرواجب الادا رقم کی واپسی کے لئے بھی دباؤ ہے۔ اس سے کے الیکٹرک کو 65 ارب روپے کی لیکوڈٹی کی کمی کا سامنا ہے۔ بینکوں نے کے الیکٹرک سے 30 ارب روپے وصول کرنے کے بعد نئی فنانسنگ نہیں کی ہے۔ جب کہ ٹیرف میں تاخیر کے باعث 35 ارب روپے مالیت کے صکوک کا اجرا بھی تعطل کا شکار ہے۔

بے یقینی اور عدم اعتماد کی اس فضا میں‌ کے الیکٹرک میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے اور اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو کسی بھی فالٹ کی صورت میں شہر کو کئی دنوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہ سکتی ہے۔ ایسا ہوا تو کراچی شہر سے ملک کا صنعتی اور تجارتی مرکز ہونے کا اعزاز بھی چھن سکتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے