پمز میں ساڑھے 7 ارب روپے کی لاگت سے نیا ٹراما سینٹر مکمل کیا گیا ہے
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ماضی میں پمز میں تین مختلف اور بکھری ہوئی ایمرجنسیز تھیں، جنہیں ایک جگہ منتقل کرکے نیا ٹراما سینٹر تعمیر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پمز میں ساڑھے 7 ارب روپے کی لاگت سے نیا ٹراما سینٹر مکمل کیا گیا ہے۔ پمز میں 10 ارب روپے کی لاگت سے 205 بستروں پر مشتمل نیا کینسر اسپتال بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پمز ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پمز میں اس سے قبل کینسر کے مریضوں کے لیے صرف 11 بستروں کی سہولت موجود تھی، تاہم نئے کینسر اسپتال کی تکمیل سے اس شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پمز کی پرانی عمارت کے حوالے سے 2018 سے ایک منصوبہ تیار تھا، تاہم پہلے پی سی ون اور بعد ازاں دوسرے پی سی ون میں خامیاں سامنے آئیں۔ کام شروع ہونے کے بعد پی ڈبلیو ڈی بند ہوگیا، جس کے بعد سی ڈی اے نے عمارت کی تعمیر کا کام شروع کیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے رابطہ کرکے تعمیراتی کام تیز کرایا۔انہوں نے بتایا کہ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (ایم سی ایچ) سینٹر میں مرمتی کام 15 نومبر تک مکمل ہوجائے گا۔ پمز میں نئے اسپتالوں کی تعمیر سمیت مختلف ترقیاتی کام پہلے سے جاری ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت لیبارٹری کے حوالے سے ایک نجی کمپنی کے ساتھ شراکت داری کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت مریضوں کے ٹیسٹ بغیر اضافی رقم خرچ کیے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ پمز آنے والے مریضوں کو ایک بھی ٹیسٹ باہر سے نہ کرانا پڑے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کا 7 ہزار روپے مالیت کا ٹیسٹ مفت کیا جا رہا ہے، جبکہ 34 ہزار روپے مالیت کی دوا بھی مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس کے حوالے سے اب تک 70 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، جبکہ نادرا کے ساتھ بھی معاہدہ موجود ہے۔وفاقی وزیر صحت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مفت ہیپاٹائٹس ٹیسٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہیپاٹائٹس کے ایک کروڑ 10 لاکھ مریض ہیں اور یہ بیماری جگر کے کینسر میں تبدیل ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 12 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے گا اور عوام کو مفت سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کو چلانے اور بچانے کے لیے صوبے لازم و ملزوم ہیں۔ وفاق اپنی آمدن کا 57 فیصد صوبوں کو دیتا ہے جبکہ وفاق کے 8 ہزار 884 ارب روپے صوبوں کو منتقل ہوجاتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہورہا ہے تو کیا موجودہ نظام کو ترقی قرار دیا جاسکتا ہے؟مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کا پورا نظام اصلاحات کا متقاضی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی 55 فیصد آبادی کو صاف پانی میسر نہیں، جبکہ 2 کروڑ 60 لاکھ افراد کو پانی کی سہولت دستیاب نہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں میں 22 ہزار ارب روپے صوبوں کو دیے گئے، اس کے باوجود بنیادی سہولیات کے مسائل موجود ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اب ضروری ہے کہ اختیارات کا مؤثر استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کو الگ الگ اکائیوں کے بجائے قومی نظام کا حصہ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے سندھ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں بچے مر رہے ہیں اور لوگ پانی کے حصول کے لیے 12، 12 کلومیٹر دور جا رہے ہیں، مگر اس صورتحال پر مطلوبہ ردعمل سامنے نہیں آ رہا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے 27 ستمبر کے حوالے سے کہا کہ ان کی دعا ہے کہ اللہ رحم فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار اور مظاہرین بھی کسی کے بچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد انہیں اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی۔
