• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 3:05 شام
  • پاکستان

درخواست گزاروں کا تعلق افغانستان سے ہے، جو قانونی ویزوں پر پاکستان آئے ہیں، وکیل کے دلائل

پشاور ہائیکورٹ نے افغان ٹرینی ڈاکٹرز کی ملک بدری کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار ڈاکٹرز کو آئندہ سماعت تک افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا۔

درخواستوں پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل نے کی۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ قانونی ویزوں پر پاکستان آئے ہیں، جبکہ اس وقت مختلف اسپتالوں میں اسپیشلائزڈ ٹریننگ حاصل کررہے ہیں۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق افغان طلبہ کو افغان کوٹے پر مختلف کالجوں میں ایڈجسٹ کیا گیا تھا، تاہم اب پی ایم ڈی سی نے ان کے داخلے منسوخ کرکے انہیں افغانستان واپس جانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

طارق افغان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن کے بعد میڈیکل کالجز نے بھی طلبہ کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 25، آئین کی دیگر شقوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے افغان ٹرینی ڈاکٹرز کو آئندہ سماعت تک ملک بدر نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور ان سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے