• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 4:58 شام
  • پاکستان

مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

(22 ستمبر 2026): لاکھوں روپے کی بولی میں پرانا سامان خریدنے والی فیملی نے جب اس میں موجود سوٹ کیس کھولا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔

پرانا سامان خریدنے والی فیملی کو سوٹ کیس سے جو ملا وہ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ مجرمہ اس وقت تک کوسوں دور ایک نئی زندگی شروع کرچکی تھی اور اسکے خلاف کوئی ثبوت نہ تھا، مگر۔۔۔۔۔۔۔

یہ حیرت انگیز اور خوفناک واقعہ پیش آیا نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں جہاں ہونگی وِہونگی نامی نے آن لائن نیلامی میں ویران اسٹوریج شیڈ میں موجود لاوارث پڑے گھریلو سامان کی لاٹ 401 ڈالرز کی کامیاب بولی دے کر خریدی، جس میں دو سوٹ کیس بھی شامل تھے۔

ہونگی کا ارادہ تھا کہ اس سامان کو فروخت کر کے اس سے کچھ نفع کمائیں گے، لیکن انہیں پتہ نہ تھا کہ انکا یہ منافع بخش منصوبہ ایک انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں تبدیل ہونے والا ہے۔

وِہونگی نے جب چاقو کا استعمال کرتے ہوئے سوٹ کیس کی پلاسٹک کو کاٹا تو اس میں ابتدائی طور پر کسی مرے ہوئے چوہے کی بو تھی، لیکن جیسے جیسے سوٹ کیس کھلتا گیا، اس کی آنکھیں خوف کے مارے پھیلتی گئیں کیونکہ سوٹ کیس میں کمسن لڑکے اور لڑکی کی کئی سال پرانی بوسیدہ لاشیں موجود تھیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بچوں کی سوٹ کیس میں بند لاشیں ملنے کا واقعہ اگست 2022 میں ہوا اور ڈیٹیکٹو انسپکٹر نے لاشوں کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ لاشیں تین سے چار سال پرانی ہیں۔

جب اسی واقعے کی مزید تحقیقات کی گئیں تو حیرت انگیز اور نا قابل یقین انکشافات سامنے آتے گئے۔ یہ کن معصوم بچوں کی لاشیں تھیں، ان کو کس نے قتل کیا اور وجوہات کیا تھیں۔ یہ تمام تفصیلات آپ کے بھی رونگٹے کھڑے کر دیں گی۔

یہ لاشیں تھیں 6 سالہ لڑکی ’مینو جو‘ (Minu Jo) اور 8 سالہ لڑکے ’یونا جو‘ (Yuna Jo) کی، جو ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے والے جوڑے جی یون لی (ماں) اور ایان جو (باپ) کے بچے تھے۔ تاہم بدقسمتی سے کچھ عرصہ قبل والد کا انتقال ہو چکا تھا۔

اپریل 2018 وہ آخری وقت تھا جب خاندان کے افراد نے بچوں کو زندہ دیکھا۔ جب کہ تحقیقات میں بچوں کی آخری سرگرمیوں کے بارے میں سب سے ٹھوس شواہد 27 جون 2018 کے ہیں۔

معصوم بچوں کا قاتل کون؟

تحقیقات کی گئیں تو کڑیاں سے کڑیاں ملتی گئیں اور آخری کڑی 2018 میں نیوزی لینڈ چھوڑ کر جنوبی کوریا جانے والی خاتون سے ملیں، جو کوئی اور نہیں بلکہ ان بچوں کی ماں جی یون لی تھی، جو اپنے آبائی ملک جنوبی کوریا میں نام بدل کر ’ہاکیونگ لی‘ کے نام سے رہ رہی تھی۔

بچوں کی جان کیسے لی گئی؟

لی کی ذہنی کیفیت کے لیے ڈاکٹر نے اسے ‘نارٹریپٹیلین’ (nortriptyline) کی 60 گولیاں تجویز کیں؛ یہ ایک اینٹی ڈپریسنٹ (ذہنی دباؤ کم کرنے والی) دوا ہے جسے نیند لانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور پھر یہی گولیاں بعد میں اس نے بچوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیں۔

ماں نے جوس میں نارٹریپٹائلین (ایک قسم کی دوا) گھولی اور اسے اپنے بچوں کو پلا دیا۔ اس دوا نے یا تو انہیں ہلاک کر دیا یا پھر انہیں بے بس کر دیا، جس کے بعد انہیں دیگر طریقوں سے ہلاک کرنا ممکن ہو سکا۔

قاتل کا کھوج کیسے لگایا گیا؟

آکلینڈ کے خاندان نے جس اسٹوریج یونٹ کا سامان خریدا تھا۔ وہی پتہ لی کی شناختی دستاویزات پر تھا۔ جس کے ذریعے نیوزی لینڈ پولیس نے ملزمہ تک رسائی کی اور پھر جنوبی کوریا سے رابطہ کر کے اس کو قانونی کارروائی کے بعد اپنی تحویل میں لیا۔

عدالت میں 4 سال تک کیس میں کیا کچھ ہوا؟

نیوزی لینڈ پولیس نے ملزمہ لی کو جنوبی کوریا سے لا کر عدالت میں پیش کیا۔ ابتدا میں تو وہ بچوں کے قتل سے یکسر انکار کرتی رہی۔ مگر گزشتہ سال 2025 میں دو ماہرین نفسیات سے گفتگو میں اس نے بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا، تاہم اس کی وجہ اپنا عدم تحفظ (اگر وہ مر گئی تو بچوں کا سہارا کون ہوگا) اور ذہنی ڈس آرڈر کو قرار دیا۔

تاہم عدالت میں کیس چلنے اور تحقیقات کے دوران ملزمہ لی کی جانب سے دیے گئے بیانات میں کافی حد تک تضادات پائے گئے، جس کی وجہ سے عدالت میں اس کا کیس کمزور ہوا۔

عدالت کا فیصلہ:

جیوری نے وکیل صفائی اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد لی کے وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے ذہنی توازن درست نہ ہونے کے دفاعی موقف کو مسترد کرتے ہوئے ماں کو ہی اپنے دو بچوں کے قتل کا مجرم قرار دیا۔

بچوں کی قاتل ماں کا پس منظر

جیسمین ‘جی یون لی’ کے نام سے 1980 میں سیول، جنوبی کوریا میں پیدا ہوئیں۔ 1993 میں، بہتر مواقع کی تلاش میں یہ خاندان نیوزی لینڈ منتقل ہو گیا۔

24 سال کی عمر میں، لی (Lee) کی ملاقات چرچ کے ذریعے ایان جو (Ian Jo) سے ہوئی اور 2006 میں ان کی شادی ہو گئی۔ ان کے دو بچے ہوئے۔ تاہم 2017 میں شوہر کی موت کے بعد سے وہ رشتے داروں اور سماجی رابطوں سے کٹنے لگی تھی۔

اپنے شوہر کے انتقال سے بچوں کے قتل تک ایک سال کے عرصے کے دوران لی کی زندگی تضادات پر مبنی رہی ہے۔ شوہر کی موت کے بعد خاتون نے اپنا نام جی یون لی سے تبدیل کر کے ہاک یونگ لی رکھ لیا۔ لی کے شوہر کا 2017 میں کینسر کے باعث انتقال ہو گیا تھا۔

شوہر کی زندگی میں سادہ اور خوشحال زندگی گزارنے والی لی اس کی موت کے بعد ملنے والی انشورنس کی رقم بے دریغ کپڑوں، میک اپ، ملبوسات اور دیگر مشاغل پر خرچ کرنے لگی تھی۔

لی کے جاننے والوں سے بات چیت کے بعد پتہ چلا کہ ملزمہ کا موڈ بدلتا رہتا تھا۔ کبھی کبھی وہ بہت خوش ہوتی تھیں اور کبھی کبھی اس کا رویہ بہت سرد مہری والا ہوتا تھا اور وہ کئی بار اپنی زندگی ختم کرنے کا عندیہ بھی دے چکی تھی۔

اسی طرح کے خدشے کا اظہار جب اس نے اپنی ماں سے کیا تو انہوں نے لی سے کہا تھا کہ ’اگر تمہارا ایسا ارادہ ہے تو بچوں کو میرے پاس چھوڑ دو‘۔

قاتل ماں نیوزی لینڈ سے کیسے فرار ہوئی؟

بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے اگلے چند ہفتوں کے دوران، لی (Lee) نے خاندانی گھر کا سامان سمیٹا، کرائے داری کا معاہدہ ختم کیا، اپنے نئے نام سے فوری پاسپورٹ کے لیے درخواست دی اور گھر کا سامان منتقل کرنے والوں (movers) کو ادائیگی کی تاکہ اس گھر کا سامان اٹھایا جا سکے۔

29 جولائی 2018 کو لی ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے بغیر بچوں کے بزنس کلاس پرواز کے ذریعے نیوزی لینڈ سے روانہ ہو گئی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے