خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل
امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانی والی خاتون نے 2 بار موت کا چکما دے دیا
انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار
ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان
مؤقر امریکی جریدی بلوم برگ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سےپابندیوں میں نرمی کےبدلے جوہری معائنہ کاروں کو رسائی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
بلوم برگ کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے جوہری معائنہ کاروں کو بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک رسائی دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے نیویارک میں یورپی اور مشرق وسطیٰ کے سفارت کاروں سے ملاقاتوں میں تجویز پیش کی اور ایران نے جوہری معائنہ کاروں کی رسائی کو پابندیوں میں نرمی سے مشروط کیا ایرانی تجویز امریکا کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات میں پیش رفت کی کوشش ہے۔
سفارت کاروں کے مطابق عراقچی نے نجی ملاقاتوں میں جوہری معائنہ کاروں کی رسائی کی پیشکش کی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نیوز چینل این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ 60 فیصد یورینیم کی افزودگی قانونی ہے اور یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دائرہ کار میں ہے، یورینیم کی افزودگی میڈیکل مقاصد و بعض دیگر چیزوں کیلیے استعمال ہوتی ہے۔
شرائط کے بارے میں عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو جوہری مسائل پر بات چیت کیلیے تیار ہیں، مذاکرات کیلیے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی ناکہ بندی کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات کا انتخاب ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے، ہم دوبارہ جنگ کے امکان کیلیے مکمل طور پر تیار ہیں، نئی جارحیت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں گے خواہ نتائج تباہ کن ہی کیوں نہ ہوں، گزشتہ جنگ میں امریکی صدر نے دو دن میں غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا، اب انہیں جنگ لڑتے ہوئے 8 ماہ گزر چکے لیکن کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو سکا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم ایسے حالات کیلیے مکمل طور پر تیار ہیں، ہم نے گزشتہ 2 جنگوں سے سبق سیکھا ہے اور حکمت عملی کو بہتر بنایا، انکے رویے دیکھ کر سفارت کاری کی طرف واپس آنے یا دوبارہ بات چیت کی وجہ نہیں بنتی۔
’2025 میں امریکا نے مذاکرات کی پیشکش کی تو ہم نے اسے قبول کیا اور بات چیت کا آغاز کیا، لیکن مذاکرات کے دوران ہی انہوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ 8 ماہ بعد فروری 2026 میں انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی تو ہم نے دوبارہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی، لیکن پھر عین بات چیت کے دوران حملہ کر دیا گیا۔‘
