• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 7:42 صبح
  • پاکستان

امریکی پابندیوں کی زد میں صرف عدالت کے عہدیدار نہیں بلکہ پورا ادارہ آسکتا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر وسیع پیمانے کی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے جن کا اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یا اس کے فوراً بعد کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ تفصیلات امریکی حکام اور دستاویزات کے حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ پابندیوں کے تحت آئی سی سی کے ساتھ زیادہ تر مالی اور تجارتی لین دین پر پابندی عائد ہوسکتی ہے تاہم ان اقدامات کے نفاذ سے قبل 6 سے 7 ماہ کی مہلت دیے جانے کا امکان ہے۔

امریکی پابندیوں کی زد میں صرف عدالت کے عہدیدار نہیں بلکہ پورا ادارہ آسکتا ہے۔ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو آئی سی سی کو فنڈز، اشیا یا خدمات فراہم کرنے سے روکا جاسکتا ہے جب تک امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی جانب سے خصوصی اجازت نہ دی جائے۔

مجوزہ پابندیوں کے نتیجے میں آئی سی سی کے امریکی ڈالر میں لین دین بھی متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ امریکی مالیاتی نظام تک رسائی رکھنے والے بینک پابندیوں کی خلاف ورزی کے خدشے کے باعث عدالت کے ساتھ لین دین محدود کرسکتے ہیں۔ اس صورتحال سے عدالت کے مالیاتی نظام تک رسائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ ادارے کو براہ راست نشانہ بنانے والی پابندیوں سے اس کی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں جن میں آئی ٹی سروسز اور انشورنس کی خریداری تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کرنا، مالی لین دین اور امریکی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آئی سی سی سے اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹس واپس لینے اور افغانستان میں امریکی فوجیوں سے متعلق ماضی کی تحقیقات ختم کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔

امریکا ایران جنگ، ٹرمپ نے خطے میں بڑی تبدیلیوں کا عندیہ دے دیا

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جولائی میں آئی سی سی کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مہم کا اعلان کرتے ہوئے دیگر ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ عدالت سے علیحدگی اختیار کریں۔

واشنگٹن اس سے قبل آئی سی سی کے متعدد ججوں، پراسیکیوٹرز اور دیگر عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے تاہم پورے ادارے کو ہدف بنانے سے گریز کیا گیا تھا۔

امریکی انتظامیہ کی آئی سی سی سے کشیدگی خاص طور پر اس وقت بڑھی جب عدالت نے 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ سے متعلق مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔

امریکا عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے۔ آئی سی سی 2002 میں جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی اور مخصوص حالات میں اس وقت کارروائی کرتی ہے جب متعلقہ قومی نظام مبینہ سنگین جرائم کی تحقیقات یا مقدمہ چلانے کے قابل یا آمادہ نہ ہو۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پابندیوں کے اعلان کا حتمی وقت ابھی واضح نہیں تاہم فیصلہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران حتمی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے فوری طور پر اس رپورٹ پر تبصرہ نہیں کیا جبکہ رائٹرز نے بھی رپورٹ کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے