• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 4:29 صبح
  • پاکستان

عمان : سمندر کے اوپر سے گزرنے والا کیبل کار منصوبہ تیار

اے آئی انسانوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے، خوفناک انکشاف

اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

اسلام آباد : حکومت نے نئی 5 سالہ آٹو پالیسی کی منظوری دے دی جس کے تحت ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی مرحلہ وار کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیداوار و صنعت ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے سستی گاڑیوں کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں ہارون اختر خان نے بتایا کہ حکومت آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھانے، گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے، مقامی پیداوار اور لوکلائزیشن کو فروغ دینے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرانے جارہی ہے، جس میں مخصوص کیٹیگری کی الیکٹرک گاڑیوں پر نہ ہونے کے برابر ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت نئے ماڈلز اور نئے مینوفیکچررز کو ابتدا میں مکمل تیار شدہ گاڑیاں (سی بی یو) درآمد کرکے پاکستانی مارکیٹ میں آزمانے کے لیے ایک سے دو سال کی مہلت دی جائے گی۔

اگر کوئی ماڈل مارکیٹ میں کامیاب رہتا ہے تو کمپنی کو اسمبلی پلانٹ لگانے اور بعد ازاں مقامی پیداوار اور لوکلائزیشن کی جانب بڑھنا ہوگا۔

ہارون اختر کے مطابق نئی پالیسی میں ایسی مالیاتی ساخت وضع کی گئی ہے جس کے تحت کمپنیوں کو مقامی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن کی طرف بڑھنے کی ترغیب ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مدت گزرنے کے بعد درآمدی پرزوں اور مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) یونٹس پر ڈیوٹی میں بتدریج اضافہ ہوگا، جس سے مقامی سطح پر پیداوار اور لوکلائزیشن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کا ایک مقصد موجودہ گاڑی ساز اداروں کی پیداواری صلاحیت بڑھانا بھی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں پاکستان میں گاڑیوں کی سالانہ پیداوار ساڑھے 3 لاکھ یونٹس تک پہنچی تھی اور حکومت چاہتی ہے کہ صنعت دوبارہ زیادہ پیداوار کی جانب بڑھے۔

متوسط طبقے کے لیے سستی گاڑیوں پر توجہ

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم کی توجہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گاڑیوں کو نسبتاً سستا بنانے پر ہے، ان کے مطابق لگژری گاڑیوں کے بجائے عام شہری کے لیے دستیاب گاڑیوں کی قیمت کم کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی سہولت

ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت الیکٹرک وہیکلز کے شعبے میں بھی تیزی سے تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق نئی پالیسی میں ایک مخصوص کیٹیگری کی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے تقریباً نہ ہونے کے برابر ڈیوٹی رکھی جائے گی اور مینوفیکچررز کو دو سال کا موقع دیا جائے گا کہ وہ سستی الیکٹرک گاڑیوں کے ماڈلز پاکستان میں متعارف کرائیں۔

3ہزار چارجنگ اسٹیشنز کا منصوبہ

معاون خصوصی کے مطابق پاکستان کی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیوں کو بھی متعارف کرانے کا مقصد صارفین میں چارجنگ اسٹیشن دستیاب نہ ہونے کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کم کرنا ہے۔

نئی آٹو پالیسی کب آئے گی؟

ہارون اختر خان نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی کی تیاری کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہورہے ہیں، ان کے مطابق وزیراعظم نے قانونی دستاویزات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے