• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 2:49 صبح
  • پاکستان

اپنے پاکیزہ اخلاق اور دیانت داری کے سبب اہل مکہ نے آپؐ کو صادق اور امین کا لقب دیا

قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی جانب سے ماہ ربیع الاول کے موقع پر ایک مہکتی ہوئی کتاب کا تحفہ موصول ہوا۔ اس کتاب کو ڈاکٹر طارق سلیم نے بعنوان ’’سیرت معلم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسانیت ‘‘ کے عنوان سے تصنیف کیا ہے۔مصنف نے ابتدا سے اختتام تک سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر روشنی ڈالی ہے۔

انداز بیاں سادہ اور سلیس ہے رسول پاکؐ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو مختصر ضرور لکھا ہے لیکن ہر بات مکمل طور پر وقیع، جامع اور احادیث و قرآن کی روشنی میں پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے اور یہ بہت بڑی خوبی ہے پوری زندگی کو احاطہ تحریر میں لانا آسان کام ہرگز نہیں ہوتا ہے اس کے لیے تاریخ کے ابواب سے عرق کشید کیا جاتا ہے۔

کتاب اظہار تشکر اور ماخذ کو ملا کر 303 صفحات کا احاطہ کرتی ہے۔ انتساب اپنے والدین کے نام لکھا ہے کہ انھی کی تعلیم و تربیت، محبت و شفقت نے انھیں اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرنا سکھایا اور جس نے انسانیت کا پرچار کیا اللہ اور اس کے نبی آخرالزماںؐ کے نام کا علم اٹھایا وہی دین و دنیا میں کامیاب ہوا۔

سیرت طیبہ پر مصنفین و محققین اگر تبلیغ دین کا حق ادا کریں تو یہ بات یقینی ہے کہ معاشرے کے لیے ان کا وجود مفید اور مثبت امور کی ادائیگی کا ضامن ہوگا۔ امربالمعروف و نہی عن المنکر کا درس دینے والے کو اللہ گمراہ نہیں کرتا ہے۔ ڈاکٹر طارق سلیم صاحب نے علامہ اقبال کے نعتیہ کلام سے کتاب کی ابتدا کی ہے۔

لوح بھی تُو قلم بھی تُو تیرا وجود الکتاب

گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

دور حاضر کے جید علما کی آرا بھی کتاب میں درج ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن، مفتی منیب الرحمن، مفتی محمد تقی عثمانی وغیرہ ان سب نے ڈاکٹر صاحب کی تحریر پر تعریفی کلمات لکھ کر انھیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

کتاب 11 ابواب پر مشتمل ہے۔ آغاز تحریر سے اختتام تک آپؐ کی آمد اور عرب کا مذہبی و سیاسی ماحول، سماجی حالات کو رقم کیا گیا ہے کہ آپؐ کے ظہور سے قبل عرب کن حالات میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ پھر خاندان قریش کا تعارف بیان کیا ہے چونکہ اس معزز خاندان میں اللہ کے رسولؐ کی ولادت باسعادت ہوئی۔

آپؐ یتیم پیدا ہوئے اور جب آپؐ کی عمر مبارک چھ سال کی ہوئی تو والدہ کی شفقت و محبت سے بھی محروم ہو گئے۔ پھر دادا حضرت عبدالمطلب اور چچا حضرت ابو طالب نے اپنی شفیق بانھوں میں سمیٹ لیا اور شجر سایہ دار بن کر آپؐ کے ساتھ رہے۔

ان دونوں خونی رشتوں نے اپنے پوتے اور بھتیجے کا ہر طرح ساتھ دیا اور محبت و تحفظ کی گھنی چھاؤں فراہم کی لیکن یہ بھی اللہ کی آزمائش ہی تھی ۔ جب دادا حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہوا اس وقت آپؐ کی عمر مبارک صرف آٹھ سال تھی۔

آٹھ سال کی عمر میں نہایت شفیق و عزیز دادا حضرت عبدالمطلب کا سایہ سر سے اٹھ جانا رسول پاکؐ کے لیے بہت بڑا سانحہ تھا لیکن دادا کی وصیت کے مطابق چچا حضرت ابو طالب نے اپنی اولاد سے زیادہ خیال رکھا۔ سفر ہو یا حضر حضرت ابو طالب اپنے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتھ رکھتے۔

اپنے پاکیزہ اخلاق اور دیانت داری کے سبب اہل مکہ نے آپؐ کو صادق اور امین کا لقب دیا۔ آپؐ کی راست بازی، نیکی اور سچائی سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہؓ جوکہ مکہ کی سب سے معزز صاحب ثروت اور باوقار نیک اطوار خاتون تھیں پورے عرب میں اپنی پاکیزگی، سچائی اور سنجیدگی کی وجہ سے طاہرہ کے لقب سے جانی جاتی تھیں۔

حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے نکاح کی خواہش کا اظہار آپ کے معجزات، اعلیٰ اوصاف اور غیر معمولی ذہانت کی بنا پر کیا۔ حضرت خدیجہؓ ہی رسول پاکؐ کی پہلی رفیقہ حیات تھیں۔ آپؓ نے ہر مشکل وقت میں آپؐ کا ساتھ دیا حتیٰ کہ اسلام لانے والی خواتین میں پہلا نام آپ کا ہی آتا ہے۔

کتاب کے مصنف ڈاکٹر طارق سلیم نے اپنے قارئین کو اہم معلومات سے آگاہ کیا ہے جیسے حضرت سمیعہؓ پہلی شہید خاتون تھیں جو ابو جہل کے ظلم و ستم کا شکار ہوئیں۔ مسلمانوں کی پہلی ہجرت، ہجرت حبشہ کا اور کفار مکہ کے مظالم کے بارے میں تفصیلی ذکر ملتا ہے۔

کم و بیش زیادہ اسلامی واقعات، غزوات کا ذکر دوسری کتابوں میں بھی ملتا ہے لیکن مذکورہ کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اہم حقائق کی پردہ کشائی مختصراً کی گئی ہے۔ باب ششم میں شعب ابی طالب کے محاصرے اور معاہدے کی صورت حال کی عکاسی کی گئی ہے یہ معاہدہ بھی قریش مکہ کا مسلمانوں سے نفرت اور تعصب کا پیش خیمہ تھا۔

شعب ابی طالب ایک تنگ وادی کا نام تھا جہاں بنو ہاشم اور مسلمانوں کو مجبوراً پناہ لینی پڑی کہ قریش کے سرداروں نے مسلمانوں سے مکمل معاشرتی اور معاشی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ یہ دن بڑے آزمائش کے تھے۔ مدت تین سال کی تھی اور اللہ کی مدد کے تحت اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صبر و استقامت کے باعث شعب ابی طالب سے نجات مل گئی۔

طائف کی گلیوں میں اللہ کے پیارے حبیب احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے شمار ظلم و ستم ڈھائے اور آپؐ کی شان میں گستاخی کی گئی۔ ان تمام حالات میں اللہ کے نبیؐ ثابت قدم رہے۔ آخر ہجرت مدینہ کا وقت بھی آ گیا لہٰذا ہجرت کا عظیم واقعہ رونما ہوتا ہے پھر جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ خندق کے سبق آموز واقعات اور مسلمانوں کی حکمت عملی، سیاسی تدبر اور ایمان کی روشنی میں مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوتی ہے اور کفار کی کمر ٹوٹ جاتی ہے مکہ فتح ہو جاتا ہے۔

63 سال کی عمر میں آپؐ کا وصال اس وقت ہوتا ہے جب باطل کا خاتمہ اور صداقت کی روشنی سے پورا عرب جھلملا جاتا ہے۔خواجہ الطاف حسین حالی، مظفر وارثی، سید امین گیلانی کی خوبصورت اور دلآویز نظمیہ شاعری جو رسول پاکؐ کی حیات مبارکہ سے مہکتی، بادصبا سے رچی بسی زندگی کو عیاں کرتی ہے۔ ہر واقعہ، ہر پہلو، صبر و شکر، عفو و درگزر، ہمت و جرأت، صداقت و امانت جیسے اوصاف سے دلوں کو منور کرتا ہے۔ مظفر وارثی کا ایمان افروز کلام دلوں کو موہ لیتا ہے۔

بدن بھی کپڑے بھی واجبی سے

نہ خوش لباسی نہ خوش قبائی

اسے غریبوں کے ساتھ دیکھوں

عنانِ کون و مکاں جو تھامے

کدال پر بھی وہ ہاتھ دیکھوں

فلک نشیں کا زمیں پہ گھر ہے

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے