• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 4:12 صبح
  • پاکستان

نام رکھنے کی تقریب میں نجی سکول کے بچوں نے جانوروں کے لباس میں پرفارمنس پیش کی

بچوں کی تجویز پر لاہور چڑیا گھر کی انتظامیہ نے نئے نر دریائی گھوڑے کا نام گبو رکھ دیا گیا۔ نام رکھنے کی تقریب میں نجی سکول کے بچوں نے جانوروں کے لباس میں پرفارمنس پیش کی جبکہ میجک شو کے ذریعے بھی بچوں کو محظوظ کیا گیا۔

تقریب کا مقصد بچوں میں جنگلی حیات سے محبت اور جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔

تقریب میں ڈائریکٹر لاہور چڑیا گھر ڈاکٹر غلام رسول، ڈپٹی ڈائریکٹر شاہزیب خورشید، سینیئر ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر محمد مجاہد، نجی اسکول کے سی ای او، پرنسپل، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر گبو کو اس کی پسندیدہ خوراک، پھل اور سبزیاں بھی پیش کی گئیں۔

ڈائریکٹر لاہور چڑیا گھر ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ نر دریائی گھوڑا رواں سال مارچ میں جنوبی افریقا سے لاہور چڑیا گھر لایا گیا تھا یہاں پہلے ہی مادہ دریائی گھوڑا رانی موجود ہے۔

بچوں کی جانب سے تجویز کیے گئے نام گبو کو منتخب کیا گیا تاکہ جانور کے ساتھ بچوں کی دلچسپی اور وابستگی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

سینیئر ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر محمد مجاہد نے بتایا کہ جانور بھی مسلسل اور یکساں انداز میں پکارے جانے والے ناموں سے مانوس ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق جب کسی جانور کو روزمرہ معمول کے دوران ایک مخصوص نام سے بار بار پکارا جائے تو وہ آواز اور نام کو اپنی طرف توجہ دلانے والے اشارے کے طور پر پہچاننا شروع کر دیتا ہے۔

تقریباً ایک سے دو ماہ تک مستقل طور پر ایک ہی نام استعمال کیا جائے تو جانور اس نام کے ساتھ مانوس ہو سکتا ہے اور اسے پکارنے پر توجہ، حرکت یا دوسرے رویوں کے ذریعے ردعمل دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جانور کے نام سے ردعمل کا مطلب انسانی زبان میں نام کا مفہوم سمجھنا نہیں بلکہ مخصوص آواز کو اپنے معمول، نگہداشت کرنے والے شخص یا خوراک جیسے مثبت تجربات کے ساتھ جوڑنا ہوتا ہے۔ اس لیے نام کا مستقل اور ایک ہی انداز میں استعمال جانور کو اس آواز سے مانوس کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق جانوروں کے نام رکھنے کی روایت نئی نہیں۔ انسان صدیوں سے پالتو جانوروں، خصوصاً مویشیوں، گھوڑوں اور خچروں کو شناخت اور روزمرہ نگہداشت کے لیے مخصوص ناموں سے پکارتے آ رہے ہیں۔

انسانی نگہداشت میں رکھے گئے جنگلی جانوروں کے بھی نام رکھنا کئی چڑیا گھروں اور وائلڈ لائف مراکز میں معمول کا حصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور چڑیا گھر میں بھی درجنوں جانوروں کو مخصوص نام دیئے گئے ہیں، جن میں مادہ دریائی گھوڑارانی بھی شامل ہے۔

ان کے مطابق جانوروں کے نام رکھنے سے عملہ ان کی شناخت آسانی سے کر سکتا ہے جبکہ عوام، خصوصاً بچوں، میں ان جانوروں سے جذباتی وابستگی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے بارے میں دلچسپی پیدا کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے