• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 5:38 شام
  • Australia

غیر معیاری رنگ گورا کرنے والی کریمیں کینسر کا باعث بن رہی ہیں، بل کے تحت اتھارٹی قائم کی جائے گی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے غیر معیاری کاسمیٹکس پر پابندی کا بل منظور کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل پر بحث کے بعد اسے منظورکرلیا گیا۔

وزیربرائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ ملک میں سب سے زیادہ کینسر غیرمعیاری رنگ گورا کرنیوالی کریموں سے ہورہا ہے، ای کامرس کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے جبکہ آن لائن خریدوفروخت میں ٹیکس چوری کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آن لائن ٹریڈ کے حوالے سے قانون پر کام ہورہا ہے جلد اس کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔

اس پر وفاقی وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد مگسی نے کہا بل کے تحت ایک اتھارٹی بنے گی جو کاسمیٹکس کو ریگولیٹ کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹرکامل علی آغا نے کہا ایک دوائی جس پر پاکستان میں 40 سال پہلے پابندی لگی وہ اب بھی مل رہی ہے۔

رضاحیات ہراج نے کہا کہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں بھینسوں کو دودھ کیلئے آکسیٹوسن انجکشن لگائے جاتی ہے، اس انجکشن کی وجہ سے ان بھینسوں کو بھی کینسر ہورہا ہے، پاکستان میں کاسمیٹکس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

انہوں نے کاہ کہ کاسمیٹکس میں مرکری کا استعمال ہوتا رہا جو جلد کے کینسر کا سبب بنتا ہے، قانون سازی اور معیار نہ ہونے کے باعث کاسمیٹکس ایکسپورٹ بھی نہیں کی جاسکتیں جبکہ کاسمیٹکس بنانے والے ارب پتی بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی اور اتھارٹی نہ ہونے کے باعث غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے والے عدالتوں سے بھی بری ہو جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر خالد مگسی نے کہا کہ کاسمیٹکس کی ایکسپورٹ کیلئے اسٹینڈرڈ بنانے کی ضرورت ہے، قانون سازی سے غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور امپورٹ پر سزا ہو سکے گی۔

بل پر بحث کے بعد کمیٹی نے اس کو منظورکرلیا، جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور امپورٹ کرنے پر سات سال قید کی سزا ہو سکے گی۔

بل کے مطابق غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور امپورٹ کرنے پر ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا ہو گی۔ اسی بل کے تحت غیر معیاری کاسمیٹکس کی روک تھام کیلئے اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے