• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 5:38 شام
  • Australia

سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026ء پیش، مزید غور کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کو سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026ء پیش کردیا گیا اس بل پر مزید غور و خوض کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی جو ایک ہفتہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی، ایوان نے بعض دوسری ترمیمی قوانین کی بھی منظوری دیدی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کو ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ کارروائی کے آغاز میں ایم کیو ایم کے نجم مرزا نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کی اس وقت ارکان کی تعداد خاصی کم تھی جس پر اجلاس کچھ دیر کے لئے ملتوی کردیا گیا اور کارروائی پھر سے شروع ہوئی۔

ایوان کی کارروائی کے دوران وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار نے اجلاس کی صدر نشیں سے کہا کہ پارلیمانی سیکریٹری بلدیات سراج قاسم سومرو سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 ء ایوان میں پیش کریں گے اس کی اجازت دی جائے جس کی انہیں اجازت دے دی گئی۔ اس موقع پر اجلاس کے صدر نشیں ڈاکٹر سکندر شورو نے سندھ بلدیاتی قانون 2013میں ترمیم کے لئے ایک 12 رکنی کمیٹی قائم کردی جویک ہفتے میں پیش کرے گی۔کمیٹی میں وزیر قانون ضیا لنجار کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔

مجوزہ ترمیمی قانون کے تحت میئر اور چیئرمین مدت ختم ہونے کے بعد بھی ایڈمنسٹریٹر رہیں گے۔ ڈپٹی میئر اور وائیس چیئرمین متعلقہ کونسل کے کنوینر ہوں گے۔ ڈپٹی میئر اور وائیس چیئرمین کونسل اجلاس کی صدارت کریں گے۔

مسودہ کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا عمل کونسل کی مدت مکمل ہونے سے 120 روز قبل شروع کیا جائے گا۔انتخابات نہ ہونے کی صورت میں میئر اور چیئرمین ایڈمنسٹریٹر کی صورت میں کام جاری رکھیں گے۔ چیئرمین اور وائیس چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہو سکے گی۔

مجوزہ قانون میں براہ راست منتخب نمائندوں کے لیے احتساب کا نظام وضع کیا گیا ہے۔کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا چیف ایگزیکٹو میٹرو پولیٹن کمشنر ہوگا۔ ترمیمی قانون کے تحت یونین میونسپل اور ٹاؤن کی سطح پر مصالحتی فورم قائم کرنے کی تجویز ہے ۔مصالحتی فورم کمیونٹی کے تنازعات کا باہمی حل تلاش کرے گا۔ مسودہ کے مطابق مقامی ایس ایچ او یوسی چیئرمین سے رابطہ کرے گا۔ مصالحتی فورم میں ایس ایچ او اور چیئرمین کا کردار ہوگا۔

ایوان نے اپنی کارروائی کے دوران سندھ آبکاری ایکٹ ترمیمی بل 2026 ، صوبائی موٹر وہیکل آرڈیننس 65 میں ترمیمی بل پیش کئے گئے جن کی ایوان نے منظوری دیدی۔ بل وزیر قانون نے پیش کئے۔

وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ نے صوبائی موٹر وہیکل آرڈیننس 65 میں ترمیمی بل کے بارے میں ایوان کو بتایا کہ یہ ترمیم کار ڈیلرز کے بارے میں ہے پہلے جو گاڑی ایک ماہ میں رجسٹرڈ نہیں ہوتی تھی اس پر جرمانہ لگتا تھا تاہم اب شو روم پر کھڑی گاڑی پر چھ ماہ تک جرمانہ نہیں ہوگا تاہم گاڑی روڈ پر آنے کے ساتھ جرمانہ لگ سکتا ہے۔

ایوان کی کارروائی کے دوران ارکان کی جانب سے مختلف توجہ دلاﺅ نوٹس پیش کئے گئے جن کے متعلقہ وزراءاور پارلیمانی سکریٹریوں نے جواب دیئے۔ جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس میں کہا کہ شاہ فیصل کالونی اور گرین ٹاؤن میں برساتی نالے کھلے ہوئے ہیں،یہ نالے کسی وقت بھی حادثے کی وجہ بن سکتے ہیں ،یہ نالہ اس سال بھی کچرے سے بھرا ہوا ہے صفائی نہیں ہوئی۔

پارلیمانی سکریٹری بلدیات قاسم سراج سومرو نے کہا کہ نالوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری کے ایم سی کی ہے ،کے ایم سی نے کچھ حصوں کی مرمت کرائی ہے ۔ باقی ماندہ حصوں کی بھی مرمت کرائیں گے۔

ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیقی نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا کہ جامعہ بنوریہ کے سامنے کچرا جمع ہے ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بہت فائدہ ہوا ہے لیکن فائدہ یہ ہوا ہے کہ کچرا اٹھانے کے لیے اسمبلی ممبر منتیں کرتے ہیں ایم ڈی سالڈ ویسٹ کو خط لکھتے ہیں کوئی نوٹس نہیں ہوتا۔

قاسم سراج سومرو نے کہا کہ جب بلدیاتی الیکشن ہو رہے تھے ہم منتیں کر رہے تھے الیکشن میں حصہ لو مگر یہ لوگ بلدیاتی انتخابات سے بھاگ گئے حکومت سندھ تمام بلدیاتی نمائندوں کو ہرماہ بڑی باقاعدگی سے فنڈز جا ری کرتی ہے۔

ایم کیو ایم کے محمد وسیم نے اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس میں کہا کہ میرے حلقے میں پانی کی صورتحال خراب ہے، چوبیس گھنٹے بجلی نہیں ہوتی، پورے کراچی میں پانی کی قلت ہے۔

قاسم سراج سومرونے کہا کہ ممبر صاحب کا دوسری بار توجہ دلاؤ نوٹس آیا ہے میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ محکمے کے لوگ آپ کو بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پانی کا مسئلہ تب تک حل نہیں ہوگا جب تک کے فور کا منصوبہ مکمل نہیں ہوجاتا۔

پیپلز پارٹی کی رکن سعدیہ جاوید نے اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس میں نشاندہی کی کہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے خواتین ارکان کے لباس اور ان کے بارے میں اس ایوان کے اندر اور پھر میڈیا ٹاک میں ایسے ریمارکس دیئے ہیں جو مناسب نہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں اور ایوان میں معذرت کریں۔

صوبائی وزیر ترقی نسواں شاہینہ شیر علی اور پیپلز پارٹی کی سمیعتہ افضال نے بھی سعدیہ جاوید کی تائید کی جس پر علی خورشیدی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھی ہوئی خواتین کو نہیں بلکہ سرکاری پینچوں پر موجود خواتین ارکان کو بھی اپنی بہنوں جیسا درجہ دیتے ہیں اگر ان کی کسی بات سے انہیں دکھ ہوا ہے تو ایک بھائی اپنی بہنوں سے معذرت کرلینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی گزشتہ گفتگو کا مقصد خواتین ارکان پر تنقید نہیں تھا بلکہ ان ارکان کا حوالہ دینا تھا جو ایوان میں ویڈیو بناتے ہیں۔

محکمہ محنت سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیر سعید غنی نے ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی صنعتی ادارے میں کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ہم اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ صنعتی ادارہ ہمیں اطلاع دے ہم ازخود فوری کارروائی کرتے ہیں۔نو ہزار سے زائد بچوں کو ہم اپنے اسکولوں میں پڑھاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پہلے محنت کشوں کے بچوں کو یونیفارم اور جوتے دیئے جاتے تھے اب ہم نے مزدوروں کے بچوں کو دس ہزار ڈائریکٹ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سیکریٹری نے مزدوروں کو حج پر نہیں بھیجا تھا لیکن اس سال ہم بھیج رہے ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ کچھ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی مگر عدالتی احکامات پر افسران واپس سیٹ پر بیٹھ گئے ایسے میں، میں مجبور ہوجاتا ہوں میں نے افسران کو نکالا اور عدالت نے واپس بٹھا دیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مزدوروں کی رجسٹریشن فیکٹریز نہیں کرواتی اکثر فیکٹری مالکان مزدوروں کی تعداد کم ظاہر کرتے ہیں حالانکہ ان کی آمدنی بہت زیادہ ہوتی ہے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے یہ درست ہے کہ ہے ہم لیبر کارڈ پر مکمل عملدرآمد نہیں کروا سکے ہیں۔ مزدور کارڈ کے لیے ہم نے نادرا سے معاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا میں پورے پاکستان میں کہیں مزدوروں کا ڈیٹا موجود نہیں تھا صرف ہمارے پاس تھا۔ انہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور سوشل سیکیورٹی کے پاس جو پیسہ آتا ہے ان کا این ایف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ ایچ آئی وی کیس کی غفلت میں تمام افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے فائنل شوکاز نوٹس جاری ہوگئے ہیں، انڈوومنٹ فنڈ ہم نے قائم کردیا ہے متاثرہ بچوں کے خاندانوں کو ہم نے چھوڑا نہیں ہے بلکہ سرکاری خرچ پر ان کا بہتر علاج ہورہا ہے۔

بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے