• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 4:28 صبح
  • پاکستان

میتیں اور زخمی اہل خانہ کے حوالے، گورنر نہال ہاشمی، ناصر حسین شاہ، وقار مہدی، فاروق ستار اور وسیم اختر بھی موجود

صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود تیل بردار جہاز پر آپریشن کے دوران تین جاں بحق اور چار زخمی پاکستانیوں کو ادیس ابابا کے راستے ایتھوپین ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے کراچی منتقل کر دیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ET-694 کے ذریعے زخمی اور میتیں کراچی ایئرپورٹ پہنچیں، زخمیوں میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان جب کہ جاں بحق افراد میں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل ہیں۔

رفیع اللہ اور محمود انصاری کی نماز جنازہ آج بعد نماز عشاء ادا کی گئی جبکہ کاشف عمر کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی۔

ایئرپورٹ پر گورنر سندھ نہال ہاشمی زخمیوں اور میتوں کو وصول کرنے کے لیے بورڈنگ برج ایریا پہنچے۔ اس موقع پر سینئر صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ، سعید غنی، وقار مہدی، وزارت خارجہ کے محمد عرفان سومرو، فاروق ستار، وسیم اختر اور دیگر سیاسی شخصیات بھی موجود تھیں۔

شہید آئلر رفیع اللہ کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جہاز اغوا ہوا تو رفیع اللہ نے چھوٹے بھائی کو کہا تھا کہ میرے بچوں کا خیال رکھنا۔ ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں، میرا بیٹا بہادری سے شہید ہوا۔ ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ باقی عملہ بھاگ رہا تھا تو شہید کلمہ پڑھ رہے تھے۔ ایک قزاق نے بھاگتے وقت ہوائی فائرنگ کی، گولیاں ٹکرا کر عملے کو لگیں، رفیع اللہ کی گردن پر گولی لگی۔ آپریشن کے دوران براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔ وہ والدہ اور گھر والوں کی فرمائشیں خوشی سے پوری کرتے تھے، بچے بڑوں سب سے احترام سے پیش آتے تھے۔

محمود انصاری کے صاحبزادے نے بتایا کہ مغویوں کو بہت برے حال میں رکھا گیا تھا، کھانا نہیں دیا جاتا تھا اور پینے کے لیے آلودہ پانی دیا جاتا رہا۔ مغویوں کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی لیکن حکومت نے توجہ نہ دی۔ جس روز آپریشن ہوا مغویوں کو محبوس رکھا گیا تھا۔ ہمارا خاندان پانچ ماہ بہت تکلیف میں رہا لیکن ایک امید تھی۔ اب معاوضہ دینے کا کیا فائدہ۔

ایم کیو ایم رہنما وسیم اختر نے کہا کہ تین مغوی اب بھی جہاز پر ہیں، اسحاق ڈار سے کہوں گا اپنے آفس کو استعمال کریں اور تینوں مغویوں کو وطن لایا جائے۔

رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار نے کہا کہ آج مظلوموں کی بے بسی اور ظالموں کی بے حسی دیکھی گئی۔ اگر بے حسی کا مظاہرہ نہ ہوتا تو یہ تین لاشیں کراچی کو نہ ملتیں، وہ زندہ بازیاب ہوتے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی یہ ترجیح نہیں تھی، اگر کوئی خاص ہوتے یا کسی خاص کے بھانجے بھتیجے ہوتے تو سب زندہ لائے جاتے۔ ہم نے کہا ہمیں ذمہ داری دی جائے ہم پیسہ جمع کریں گے، ذمہ داری نہیں دی گئی۔ پہلے قزاقوں نے 85 کروڑ تاوان مانگا تو کراچی کے ترقیاتی کاموں سے 25 کروڑ دینے کی پیشکش کی تھی۔ ماضی میں تاجر برادری کے تعاون سے عشرت العباد نے مغوی بازیاب کروائے تھے۔ گٹر اور کنٹینرز سے کراچی کے بچے مر رہے ہیں۔ اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم سے رابطہ کیا۔ کراچی میں ہمارا میئر ہوتا تو کے ایم سی کے فنڈ سے 85 کروڑ دے دیتے۔ بے حسی کو ختم ہونا چاہیے اور صومالیہ کے آس پاس بحری تجارت کو محفوظ بنایا جائے۔

جماعت اسلامی کے رہنما محمد فاروق نے کہا کہ افسوسناک واقعہ ہے جتنی تعزیت کی جائے کم ہے۔ ریاست ماں نے بچوں کو بچانے کی کوشش نہیں کی، ریاست کی وجہ سے یہ سانحہ دیکھنا پڑا۔ گیلانی صاحب کا بیٹا تاوان کے بعد آسکتا ہے تو یہ بچے کیوں نہیں آئے؟ متاثرین نے فارن آفس کو کہا کہ ہم پیسے جمع کریں گے اجازت دی جائے، وہ بھی اجازت نہیں دی گئی۔ فارن آفس کے باہر متاثرین پر تشدد کیا گیا۔ الخدمت کی جانب سے جماعت اسلامی علاج معالجے کا تمام خرچہ اٹھائے گی اور ہر فورم پر لواحقین کے ساتھ رہے گی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے