• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 1:38 صبح
  • پاکستان

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

صومالیہ : بحری قزاقوں کیخلاف فورس کی کارروائی کے دوران بحری جہاز پر قزاقوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 پاکستانیوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

صومالیہ میں ہائی جیک کیے گئے بحری جہاز ’آنر 25‘ پر سیکیورٹی فورس کے حملے کے نتیجے میں 3پاکستانیوں سمیت 5 عملہ جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے۔

جہاز کے عملے کے مطابق حملے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں میں سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری اور آئلر رفیع اللہ خان شامل ہیں۔ حملے میں ایک بھارتی شہری تنویر اور دوسرے میانمار سے تعلق رکھنے والے چیف انجینئر بھی مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق ’آنر 25‘ پر پاکستانی، بھارتی، میانمار اور انڈونیشیائی شہریوں سمیت عملے کے ارکان موجود تھے۔ جہاز کے سیکنڈ انجینئر حسین یوسف نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ حملے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں فور تھ انجینئر عثمان، عقیل، امین اور ایک انڈونیشیائی شہری شامل ہیں۔

سیکنڈ انجینئر محمد حسین یوسف کے مطابق حملے کے دوران جہاز کا اسٹیئرنگ سسٹم بھی متاثر ہوگیا اور اب اسے ایک دوسرے بحری جہاز کے ذریعے کھینچ کر منتقل کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کی لاشیں دھوپ میں پڑی ہیں جبکہ زخمی عملے کو تاحال طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔

انہوں نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں اور لاشوں کو منتقل کرنے کے لیے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق عملے کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے جبکہ جہاز کو واسوکو لے جایا جا رہا ہے، جہاں پہنچنے میں تقریباً 3 دن لگ سکتے ہیں۔

اپریل میں بھی سامنے آئی تھی عملے کی ویڈیو

’آنر 25‘ کا معاملہ اس وقت بھی خبروں میں آیا تھا جب اپریل میں جہاز پر موجود پاکستانی عملے کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، ویڈیو میں پاکستانی عملے کو جہاز کے ایک تنگ اور نامناسب حالات والے کمرے میں موجود دکھایا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً ایک درجن افراد کو جہاز کے ایک چھوٹے کمرے میں محدود رکھا گیا تھا، جن میں 11 پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ ان میں بعض کا تعلق کراچی سے بتایا گیا تھا، ویڈیو سامنے آنے کے بعد مغویوں کے اہل خانہ میں شدید تشویش پھیل گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق 21 اپریل کو صومالیہ کے ساحل کے قریب مسلح افراد نے ’آنر 25‘ کو ہائی جیک کرلیا تھا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق تقریباً 30 ناٹیکل میل دور 6 مسلح افراد نے جہاز پر قبضہ کیا تھا، اس وقت جہاز پر انڈونیشیائی کپتان اور 11 پاکستانیوں سمیت مجموعی طور پر 17 افراد سوار تھے۔

مغوی عملے کے اہل خانہ مسلسل اپنے پیاروں کی خیریت سے متعلق فکرمند رہے، جہاز پر موجود سیکنڈ انجینئر سید حسین کے اہل خانہ کے مطابق وہ جنوری میں کراچی سے روانہ ہوئے تھے اور 21 اپریل کے بعد سے ان کا خاندان سے رابطہ نہیں ہوسکا تھا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے