• ستمبر 11, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 11, 2026 8:43 شام
  • پاکستان

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

دنیا کی سب سے ’’ دُبلی پتلی کار‘‘، ریکارڈ بُک میں نام درج

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

(11 ستمبر 2026): شادی کے نام پر نوجوان لڑکوں کو مالی طور پر نقصان پہنچانے والی لٹیری دلہن کو اس کے فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔

انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پولیس نے شادی کے نام پر لڑکوں کو فریب دینے اور لوٹ مار کرنے والے گینگ کا پردہ فاش کرتے ہوئے 7 ملزمان کو گرفتار کیا، گینگ میں 5 مرد اور 2 خواتین شامل ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ گینگ ایسے نوجوان لڑکوں کو اپنا نشانہ بناتا تھا جن کی شادی کسی وجہ سے نہیں ہو پا رہی تھی، ملزمان واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے لڑکی کی تصویر دکھا کر رشتہ طے کرتے تھے، اس کے بعد وہ لڑکے والوں کو مندر بلا کر باقاعدہ شادی کی رسمیں پوری کرواتے تھے۔

پولیس حکام نے مزید بتایا کہ شادی کے دوران دلہن کو تحائف (زیور یا نقد رقم) دیے جاتے تھے، شادی کے فوراً بعد جب لڑکا دلہن کو لے کر اپنے گھر واپس روانہ ہوتا تھا تو راستے میں گینگ کے ارکان فرضی رشتے دار بن کر گاڑی روک لیتے، اور دلہن اور تحائف لے کر فرار ہو جاتے تھے۔

پولیس کے علم میں معاملہ اس وقت آیا جب رام ولاش نامی شخص نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ اس کے بیٹے راجکمار کی شادی کیلیے ایک لڑکی کی تصویر واٹس ایپ پر بھیجی گئی تھی، اس کے بعد انہیں بندھوا مہادیو مندر بلایا گیا جہاں شادی کے نام پر دلہن کو 80 ہزار روپے نقد اور زیور دیے گئے، لیکن شادی کے بعد راستے میں مبینہ باپ اور بھائی نے زبردستی دلہن کو اتار کر نقدی اور زیورات سمیت فرار ہوگئے۔

متاثرہ خاندان کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے تمام 7 ملزمان کو دبوچ لیا، جن کے قبضے سے 19,650 روپے نقد، سونے اور چاندی کے زیورات، شادی میں استعمال ہونے والا سامان اور واردات میں استعمال ہونے والی دو موٹرسائیکلیں برآمد کیں۔

پولیس حکام کے مطابق گینگ میں شامل خواتین میں سے ایک دلہن کا کردار ادا کرتی تھی جبکہ دوسری اس کی ماں بن کر لڑکے والوں کا اعتماد جیتی تھی، دیگر مرد ملزمان فرضی رشتہ دار بن کر واردات کرتے تھے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے