• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 5:56 شام
  • پاکستان

ہر سال 21 سے 24 ستمبر کے درمیان شمالی نصف کرے میں موسم خزاں جبکہ جنوبی نصف کرے میں بہار کا آغاز ہوتا ہے۔

ویسے تو حالیہ برسوں میں موسم خزاں کا دورانیہ گھٹ گیا ہے مگر پھر بھی ہر سال 21 سے 24 ستمبر کے درمیان اعتدال خریفی یا September Equinox کا آغاز ہوتا ہے۔

یہ وہ موقع ہوتا ہے جب سورج شمالی سے جنوبی نصف کرے کی جانب جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ 12، 12 گھنٹے کا ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ خط استوا دنیا کے نقشے پر بالکل درمیان میں کھینچا گیا ایک فرضی خط یا لکیر ہے جو ہماری دنیا کو شمال اور جنوب کی طرف دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔

اعتدال خریفی کے موقع پر سورج عین مشرق سے طلوع اور عین مغرب میں غروب ہوگا اور اس وجہ سے یہ ایک اہم فلکیاتی ایونٹ ہے۔

اعتدال خریفی سے پہلے سورج شمال مشرق سے طلوع ہوتا ہے جبکہ اعتدال خریفی کے بعد جنوب مشرق سے طلوع ہوگا۔

واضح رہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے مدار میں ایک جانب جھکتی ہے جس کے نتیجے میں سال میں کچھ مواقعوں پر سورج کی روشنی اور حرارت زیادہ یا کم مقدار میں براہ راست ہمارے سیارے تک پہنچتی ہے۔

اعتدال خریفی کے موقع پر چونکہ سورج خط استوا کے اوپر ہوتا ہے تو دنیا میں لگ بھگ ہر جگہ سورج کی روشنی یکساں مقدار میں پہنچتی ہے۔

اس موقع پر دن اور رات کی لمبائی بھی لگ بھگ یکساں ہوتی ہے یعنی 12، 12 گھنٹے۔

ایسا ہی مارچ میں بھی ہوتا ہے جب اعتدال ربیعی یا Spring equinox کا آغاز ہوتا ہے، اس وقت سورج شمال کی طرف جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے۔

جون میں خط سرطان یا Summer Solstice کا آغاز ہوتا ہے جبکہ دسمبر میں راس الجدی یا winter solstice کا آغاز ہوتا ہے۔

خط سرطان کا آغاز سال کے طویل ترین دن سے ہوتا ہے جس کے بعد دن کا دورانیہ گھٹنے لگتا ہے جبکہ راس الجدی کا آغاز سال کے مختصر ترین دن سے ہوتا ہے جس کے بعد دن کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے۔

دن اور رات کا دورانیہ مارچ اور ستمبر میں یکساں ہو جاتا ہے (مگر کچھ خطوں میں ایسا نہیں ہوتا)۔

لفظ equinox کا مطلب ہی مساوی رات ہے۔

زمانہ قدیم میں موسموں کا اندازہ اعتدال ربیعی، اعتدال خریفی، خط سرطان اور راس الجدی سے لگایا جاتا تھا۔

اس سال اعتدال خریفی کا آغاز 23 ستمبر کو ہوگا۔

اس کے بعد شمالی نصف کرے میں دن کا دورانیہ گھٹنے جبکہ رات کا بڑھنے لگے گا جبکہ جنوبی نصف کرے میں اس سے الٹ ہوگا۔

جزوی نابینا شخص 150 میل تک ہائی وے پر گاڑی چلا کر کرشماتی طور پر زندہ بچ گیا

26 سال بعد اپنے خاندان سے ملنے میں کامیاب ہونیوالی خاتون

دنیا کا وہ ملک جہاں فون چھوڑ کر مطالعہ کرنے پر لوگوں کو معاوضہ دیا جاتا ہے

فٹبال کھیلنے کے شوقین ہاتھی کی ویڈیو وائرل

کشتی الٹنے کے بعد 3 دن تک سمندر میں رہنے والا بچہ کرشماتی طور پر زندہ بچ گیا

مجسموں کی اس تصویر میں موجود اصل انسان کو تلاش کرسکتے ہیں؟

دنیا کے معمر ترین شخص بننے کے منتظر 119 سالہ فرد کی طویل ترین زندگی کا راز جانیں

دنیا کا پہلا بغیر بازوؤں والا ریسنگ ڈرائیور، وہ کیسے تیز رفتار گاڑی دوڑاتا ہے؟

ایک ٹیچر نے کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات دریافت کرلیے

10 سیکنڈ میں بتا سکتے ہیں کہ اس تصویر میں بچے کی ماں کونسی ہے؟

106 سالہ شخص کا طرز زندگی جو بہت زیادہ منفرد ہے

ویڈیو: ہاتھی کی گردن میں پھنسے ٹائر کو نکال دیا گیا

تازہ ترین

• 7 منٹ پہلے ستمبر کی وہ تاریخ جب دن اور رات کا دورانیہ یکساں ہو جائے گا

• 28 منٹ پہلے واٹس ایپ نے صارفین کا بڑا درد سر ختم کر دیا

واٹس ایپ نے صارفین کا بڑا درد سر ختم کر دیا

• 30 منٹ پہلے سونا فی تولہ 3800 روپے سستا، نئی قیمت 4 لاکھ 53 ہزار 436 روپے ہوگئی

سونا فی تولہ 3800 روپے سستا، نئی قیمت 4 لاکھ 53 ہزار 436 روپے ہوگئی

• 1 گھنٹے پہلے سرجانی میں خاتون اور اس کے 3 بچوں کے قتل کا معمہ حل، قاتل قریبی رشتے دار نکلا: پولیس

سرجانی میں خاتون اور اس کے 3 بچوں کے قتل کا معمہ حل، قاتل قریبی رشتے دار نکلا: پولیس

• 2 گھنٹے پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد انتہائی کم ہوگئی

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد انتہائی کم ہوگئی

• 2 گھنٹے پہلے پاکستان سے غیر قانونی یورپ جانے والوں کی تعداد میں 64 فیصد ریکارڈ کمی

پاکستان سے غیر قانونی یورپ جانے والوں کی تعداد میں 64 فیصد ریکارڈ کمی

• 2 گھنٹے پہلے جزوی نابینا شخص 150 میل تک ہائی وے پر گاڑی چلا کر کرشماتی طور پر زندہ بچ گیا

• 2 گھنٹے پہلے فیکٹ چیک: کیا اویس لغاری نے گیس کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کیا؟

فیکٹ چیک: کیا اویس لغاری نے گیس کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کیا؟

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے