• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 7:24 شام
  • پاکستان

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

شہزادہ ہیری نے وعدہ پورا کرنے کے لیے کینیڈا میں طیارے سے چھلانگ لگادی

شوہر کے دوسری لڑکی کیساتھ ڈانس کرنے پر ناراض بیوی نے انتہائی قدم اٹھا لیا

ہمارے خطّے میں اپنی محنت سے زیادہ ‘کامیاب لوگوں کا دامن پکڑ کر’ منزل حاصل کرنے کا رجحان بہت عام ہے، اور بالخصوص متوسط طبقے میں یہ رجحان بہت زیادہ نظر آتا ہے۔

ہوتا کچھ یوں ہے کہ خاندان کا کوئی بچّہ دن رات ایک کر کے تعلیم حاصل کرتا ہے، امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتا ہے اور پھر روزگار کی تلاش میں دھکے کھاتا ہے، تب کہیں جا کر اسے کوئی مناسب ملازمت ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اصل جدوجہد بھی شروع ہوجاتی ہے۔ وہ ذمے داری، لگن، محنت اور ایمانداری سے ادارے اور اپنے سینئرز کے دل میں جگہ بناتا ہے۔ اتفاق سے اگر اس کا کوئی سینئر یا افسر، ٹرانسفر یا کسی بہتر موقع سے فائدہ اٹھا کر بیرونِ ملک منتقل ہوجاتا ہے اور اپنی ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے اس محنتی نوجوان کو بھی اپنے پاس بلا لیتا ہے، تو یہ اس لڑکے کی کئی سالہ ریاضت کا پھل ہوتا ہے۔ وہ اپنا مستقبل سنوارنے کی خاطر دیارِ غیر کا رخ کرتا ہے اور وہاں جا کر سیٹل ہو جاتا ہے۔

یہاں سے خاندان میں ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد والی نسل بلا سوچے سمجھے اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے، دھڑا دھڑ اسی شعبہ تعلیم میں جُت جاتی ہے۔ جیسے تیسے کر کے ڈگری حاصل کی جاتی ہے۔ صرف اس بھروسے پر کہ فلاں بھائی یا کزن دبئی، سعودیہ، بحرین، کویت یا قطر میں بیٹھا ہے، وہ ہمیں بھی وہاں سیٹ کروا دے گا۔ کوئی یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ اس "بھائی” نے کتنی محنت اور لگن سے پڑھائی کی اور پھر امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس ہوا۔ اپنے ملک میں نوکری کی تلاش میں اس نے کتنی خاک چھانی تھی اور جب نوکری ملی تو ادارے میں کتنی لگن اور نیک نیتی سے کام کیا اور اپنی صلاحیتوں لوہا منوایا تھا۔ تب کہیں جا کر اسے یہ کامیابی ملی اور وہ دیارِ غیر میں ایک بڑے ادارے میں اچھے عہدے پر فائز ہوا اور اچھی تنخواہ پا رہا ہے۔

میں خود اس بات کا شاہد ہوں کہ کتنے ہی ایسے دوست، جو انہی تمام کٹھن مراحل سے گزر کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے، یہی رونا روتے ہیں کہ یار پھپھو کا بیٹا انجینیئرنگ کر کے وزٹ ویزے پر آ پہنچا ہے اور اب بضد ہے کہ اسے اپنے ساتھ کام پر لگواؤں، اور ادھر پھپھو ابّا پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اب اگر وہ ان کزنز کے لیے دوڑ دھوپ کرے بھی، تو بغیر تجربے اور صلاحیت کے بیرونِ ملک نوکری ملنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، کیونکہ تجربے کے بغیر دیارِ غیر میں آپ کی کوئی پیشہ ورانہ حیثیت نہیں ہوتی۔ جب ان کو اپنے وزٹ ویزے میں کامیابی نہیں ملتی تو سارا ملبہ اس بیچارے پر ڈال دیا جاتا ہے کہ خود تو سیٹل ہو گئے، ہمارے بچوں کا ہاتھ نہیں‌ تھام رہے کہ ان کا مستقبل بھی سنور جائے۔

ایسی کسی صورت حال کے بعد رشتوں اور تعلقات میں غلط فہمیاں، برہمی اور دوریاں پیدا ہونا عام ہے۔ یہ رویہ اپنانے کے بجائے اگر ہم حقائق کو جانیں اور سمجھنے کی کوشش کریں تو بہتر ہوگا۔ سب سے پہلے تو اس بات پر یقین رکھیں کہ ضروری نہیں جہاں آپ کا کزن یا کوئی قریبی عزیز کامیاب ہوا ہے، آپ کے نصیب کا رزق بھی بالکل اسی جگہ اور اسی شعبے میں ہو۔ ہو سکتا ہے آپ ایک غلط سمت میں کوشش یا ضد کر رہے ہوں۔ دوسری بات یہ کہ آپ کے اور آپ کے کزن کے حالات، قابلیت اور استعداد میں فرق ہو سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ دو افراد کا مستقبل اور سفر ایک جیسا ہی ہو۔ سب سے اہم بات یہ کہ اپنے اس کزن یا کسی رشتے دار کی آسودہ حالی اور اس کے آج کو ہی نہ دیکھیں بلکہ اس کی برسوں کی محنت، تجربے اور وطن میں رہتے ہوئے اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی خاطر اس کی بھاگ دوڑ اور مشکلات کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ یاد رکھیے، کامیابی کسی کا ہاتھ تھامنے سے نہیں مل جاتی، بلکہ اپنے راستہ خود بنانے اور اپنی قابلیت کا لوہا منوانے سے ملتی ہے۔ پرائی لاٹھی کے سہارے کبھی لمبا سفر طے نہیں ہوتا!

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے