• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 8:40 شام
  • پاکستان

ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!

دنیا میں پہلی بار ’’موٹے‘‘ بچوں کی تعداد ’’دُبلے‘‘ بچوں سے زیادہ ہو گئی!

برف کے بیچوں بیچ آتش فشاں پھٹ پڑا، حیرت انگیز ویڈیو

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

ہندوستان میں سیاسی اور سماجی تحریکوں کی فہرست میں ایک تحریک برہمو سماج کے نام سے بھی شامل ہے جس کی بنیاد رام موہن رائے نے رکھی تھی۔ ہندوستان کی اس روشن خیال اور مشہور شخصیت کے آفاقی نظریات اور سوچ نے مسلمان اکابرین کو بھی متاثر کیا جن میں‌ سرسّید بھی شامل ہیں۔ موہن رام رائے کی تحریک کا مقصد ہندوؤں کے دھرم اور معاشرتی رسم و رواج کی غلط تشریح اور خامیوں کی نشان دہی اور اصلاح کرنا تھا۔

رام موہن رائے ایسے دور اندیش انسان تھے جس نے بالخصوص ہندوؤں کو توہّم پرستی اور تعصّبات سے نکالنے کی عملی کوشش کی۔ انھوں نے ہندو گھرانوں میں رائج کئی نامناسب بلکہ ظالمانہ رسموں اور معاشرتی برائیوں کے خلاف تقریر اور تحریر کا سہارا بھی لیا۔

یہ وہ دور تھا جب ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی مکمل طور پر قابض ہوچکی تھی۔ انگریزوں کا اقتدار ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کو بھی برباد کررہا تھا۔ انگریز راج میں ہندو اور مسلمان قیادت نے اس بات پر غور کیا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر یہ غیر ملکی ان پر غالب آئے اور ہندوستانی قوم کو کیسے اس کا شعور دیا جائے۔ رائے صاحب کی نظر میں اس کی جڑ قدامت پرستی اور اس سوچ میں تھی جس میں ہندوؤں کی غالب اکثریت روایات کو مقدس سمجھ کر ان سے انحراف کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ رام موہن رائے نے اپنے ساتھ روشن خیال لوگوں کو جوڑا اور عام ہندوؤں تک یہ پیغام پہنچایا کہ ان کی ترقی اور اجتماعی مفاد کے لیے اصلاح اور تبدیلی ناگزیر ہے۔ رام موہن رائے کی فکر نے جہاں‌ ہندوؤں کو متاثر کیا وہیں ان کی مخالفت بھی کی گئی مگر وہ اپنے راستے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

رام موہن رائے 27 ستمبر 1833ء کو چل بسے تھے۔ ایک موقع پر رام موہن رائے نے اپنا وحدانی نظریہ ان الفاظ میں‌ قلم بند کیا تھا، ”پرستش اسی ذات کی ہونی چاہیے جو غیر فانی ہے، جس کا پتا تلاش سے نہیں ملتا، جو تغیر سے محفوظ ہے اور جو تمام کائنات کو پیدا کرتی اور قائم رکھتی ہے۔“ یہ وہی فلسفہ تھا جس کے داعی مسلمان تھے۔ ہندوؤں اور خود رام موہن رائے کے اہلِ خانہ کے لیے یہ سب ناقابلِ قبول تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں اپنا گھر چھوڑنا پڑ گیا۔

موہن رائے نے برہمن خاندان میں 1774ء میں آنکھ کھولی تھی۔ گاؤں‌ کے ایک مکتب میں ابتدائی تعلیم مکمل کی اور اسی عرصہ میں فارسی کے ساتھ عربی زبان بھی سیکھی۔ پٹنہ اس زمانے میں اسلامی فنون و تعلیمات کا بڑا مرکز تھا۔ رام موہن رائے کو ان کے والد نے تحصیلِ علم کی غرض سے پٹنہ بھیج دیا۔ رام موہن رائے کھلے ذہن اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے انسان تھے۔ انھوں نے پٹنہ میں قیام کے دوران اسلام اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کی اور قرآن کا مطالعہ کیا۔ اسی زمانہ میں انھیں علومِ شرقیہ سیکھنے کا موقع ملا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی کا اثر تھا جس نے ان کو بُت پرستی اور ہندو مت کے بعض عقائد کا سخت نکتہ چیں بنا دیا۔ وہ اس فکر کے ساتھ یہاں‌ سے لوٹے تو انھیں والد نے بھی قبول نہ کیا۔

راجہ رام موہن رائے کا تعلق بنگال کے گاؤں رائے رادھا نگر سے تھا۔ ان کا خاندان وہاں‌ کئی پشتوں سے آباد تھا۔ یہ لوگ مغل دور کے امرا سے وابستہ رہے تھے۔ رائے صاحب کے والد کٹّر مذہبی شخص تھے اور والدہ بھی۔ پٹنہ سے واپسی پر والد کو معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا بُت پرستی کا مخالف ہوگیا ہے تو انھیں گھر سے نکال دیا۔ شہروں شہروں‌ قیام کے دوران رام موہن رائے نے انگریزی، فرانسیسی، لاطینی، یونانی اور عبرانی زبانیں بھی سیکھ لیں۔ کئی مذاہب کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کیا اور غور و فکر میں ڈوبے رہے۔ انھوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی اور کلکتہ میں سکونت اختیار کر لی۔ یہاں انھوں نے اپنی فکر اور مذہب و معاشرے سے متعلق اپنے خیالات کو قلم بند کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد مذہبی کتب کا سنسکرت، انگریزی اور بنگالی میں ترجمہ بھی کیا۔

رفتہ رفتہ موہن رائے ہندوؤں میں مذہب بیزار مشہور ہوگئے۔ اور ان کے خلاف باتیں کی جانے لگیں، لیکن انھیں کسی کی پروا نہ تھی۔ انھوں نے انگریز حکومت سے ہندوستان میں سائنسی علوم کی ترویج اور تعلیمی اداروں‌ کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انگریز افسران بھی انھیں روشن خیال اور علم دوست شخصیت کے طور پر پہچانتے تھے۔ مشہور ہے کہ جب انگریزوں نے سنسکرت کالج قائم کرنے کا اعلان کیا، تو رام موہن رائے نے اس وقت کے گورنر جنرل کو لکھا کہ ہندوستان میں سنسکرت کی تعلیم سے زیادہ سائنسی علوم کو رواج دینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ریاضی، نیچرل فلاسفی، کیمسٹری اور دوسرے جدید علوم کے فروغ کے لیے انتظامات کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ یہ وہی کام تھا جو مسلمانو‌ں کے لیے سرسّید انجام دے رہے تھے۔

دراصل رام موہن رائے نے کلکتہ میں قیام کے دوران یہ سمجھ لیا تھا کہ انگریزوں کی غلامی کا طوق ان کی زبان اور جدید علوم سیکھے بغیر نہیں‌ اتارا جاسکتا اور یہی وجہ تھی کہ وہ ہندوؤں کو انگریزی زبان سیکھنے پر زور دیتے رہے۔ ہندوؤں میں ذات پات کی تفریق اور ستی کی رسم سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے رام موہن رائے نے 1828ء میں برہمو سماج کے نام سے تنظیم قائم کی اور ہندو بیواؤں کو دوسری شادی کا حق دینے کی حمایت میں بھی تحریک چلائی۔ راجہ صاحب کا ایک وصف دیانت داری، ان کا انکسار بھی تھا جس نے انھیں مباحث کے دوران ہمیشہ عالمانہ وقار پر قائم رکھا۔ تاہم ہندو مت کے ساتھ عیسائی مذہب پر سوالات اٹھانے کے بعد انھیں زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ہندو دشمن مشہور ہوگئے۔

راجہ رام موہن رائے کا ایک کارنامہ “تحفتہُ المؤحدین” نامی رسالہ ہے جو فارسی میں لکھا گیا جب کہ اس کا دیباچہ عربی میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس رسالے میں انھوں نے مذہبی بت پرستی پر سخت اعتراضات کیے تھے۔ انھوں‌ نے فارسی زبان میں 1822ء میں مراۃ الاخبار بھی جاری کیا اور اس کے مدیر بھی رہے۔ سر سّید احمد خان نے ان کے بارے میں لکھا ہے، “راجہ رام موہن رائے نہایت لائق اور ذی علم اور متین، مہذب و بااخلاق شخص تھے۔ راقم (یعنی سر سیّد احمد خان ) نے آپ کو متعدد بار دربارِ شاہی میں دیکھا ہے اور دلّی کے لوگ یقین کرتے تھے کہ ان کو مذہبِ اسلام کی نسبت زیادہ رجحان خاطر ہے۔ ”

راجہ رام موہن رائے رفاہِ عامّہ کے کاموں‌ کے لیے بھی مشہور تھے۔ انھوں نے ہندوستان کے متعدد شہروں میں یتیم خانے، مکتب اور شفا خانے تعمیر کرائے اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اسکول قائم کیے۔ رام موہن رائے ہی وہ شخصیت ہیں‌ جن کا انتخاب ان کے علم اور ذہانت کی وجہ سے مغل بادشاہ شاہ عالم کی پنشن کا مقدمہ لڑنے کے لیے کیا گیا۔ وہ شاہی خاندان کے وکیل کی حیثیت سے لندن میں مقدمہ کی کارروائی کے لیے موجود تھے اور وہیں زندگی کا سفر تمام کیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے