ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!
دنیا میں پہلی بار ’’موٹے‘‘ بچوں کی تعداد ’’دُبلے‘‘ بچوں سے زیادہ ہو گئی!
برف کے بیچوں بیچ آتش فشاں پھٹ پڑا، حیرت انگیز ویڈیو
دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا
لوئیس پاسچر کا نام جدید دنیا نے انسانوں کے ایک محسن کے طور پر محفوظ کیا ہے۔ لوئیس پاسچر ایک کیمیا داں اور ماہرِ حیاتیات تھا جس نے کتّے کے کاٹے کا علاج دریافت کیا۔ لسئیس پاسچر نے حیاتیاتی سائنس کی دنیا میں اپنے تجربات اور تحقیق سے کئی انکشافات کیے جن کی بنیاد پر انسانی زندگی کو بچانے اور محفوظ بنانے کے لیے ایجادات کی گئیں۔
پاسچر کے عہد میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحّت کا خیال کم ہی رکھا جاتا تھا۔ عام لوگ ہی نہیں پڑھے لکھے لوگ بھی جراثیم کو اہمیت نہیں دیتے تھے۔ لوئیس پاسچر نے خمیر پر اپنی تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر دنیا کو اس جانب متوجہ کیا اور یوں علمِ جرثومیات کو حیاتیاتی سائنس میں جگہ ملی جس کے بعد سائنس دانوں نے متعدی امراض کو سمجھنے کے لیے تحقیق کا سلسلہ شروع کیا۔ دودھ کو ابال کر اسے بیکٹریا سے محفوظ کرنے کا طریقہ بھی اسی ماہرِ حیاتیات کا کارنامہ ہے۔
فرانس کے قصبہ ڈولی میں لوئیس پاسچر نے 1822ء میں ایسے گھر میں آنکھ کھولی جس کا سربراہ جین جوزف پاسچر نپولین کی فوج میں بطور سارجنٹ خدمات انجام دے رہا تھا۔ نپولین کو معزول کر دیا گیا تو لوئیس کے والد نے ملازمت چھوڑ دی اور چمڑا بنانے کا کاروبار شروع کیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا تعلیم مکمل کرکے اسکول ٹیچر بنے لیکن پاسچر کی دل چسپی ڈرائنگ بنانے میں تھی۔ وہ اسی شوق میں اپنا بہت سا وقت لگا دیتا تھا۔ لوئیس دراصل مصور بننے کی خواہش رکھتا تھا مگر کس کو معلوم تھا کہ اس کی قسمت میں سائنس داں اور موجد بننا لکھا ہے۔ اپنے قصبے کے اسکول سے ابتدائی تعلیم مکمل کر کے لوئیس پاسچر پیرس چلا گیا۔ وہاں 1840ء میں بیچلر آف آرٹس اور 1842ء میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ 1847ء میں لوئیس نے ڈاکٹریٹ کی سند لی اور یہ وہ وقت تھا جب وہ کیمیا کے علم اور سائنسی تجربات میں منہمک ہوچکا تھا۔ 1854ء میں پاسچر نے للی یونیورسٹی میں سائنس فیکلٹی کے ڈین کی حیثیت سے ثابت کیا کہ بہت سی بیماریاں ازخود پیدا نہیں ہوتیں بلکہ ان کی وجہ جراثیم یا بیکٹیریا ہوتے ہیں۔ پاسچر کی وجہِ شہرت ریبیز کے علاج کا ٹیکہ ایجاد کرنا ہے۔
مشہور ہے کہ 1831ء میں لوئیس پاسچر ایک لوہار کی دکان کے سامنے کھڑا تھا جہاں سے انسانی چیخیں اور گوشت کے جلنے کی بُو آ رہی تھی۔ یہ اُس دور میں کتّے یا بھیڑیے کے کاٹے کے علاج کے لیے کی جانے والی وہ کوشش تھی جس میں لوہار ایک گرم سلاخ سے بدن کے متاثرہ حصّے کو داغتا تھا۔ اس دوران کئی لوگ تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے جاتے، لیکن دنیا اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں جانتی تھی۔ لوئیس پاسچر یہ سب دیکھنے کے بعد جب گھر پہنچا تو اپنے والد سے اس پر کئی سوالات کیے مگر وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکے۔ بعد میں جب اس نے تعلیم مکمل کی اور کیمسٹری کا علم حاصل کیا تو اپنے تجربات سے کئی انکشافات کیے۔ 26 سال کی عمر میں اس نے ایک انکشاف یہ کیا کہ یوکاس اور چونے کو ملانے سے جو تیزاب بنتا ہے، اس کی دو نہیں چار قسمیں ہیں۔ یوں اس کا نام اس دور کے قابل سائنس دانوں کی فہرست میں شامل ہوگیا۔ 1865ء میں پاسچر کی شہرت کو گویا چار چاند لگ گئے جب ریشم کی صنعت کے لیے مشہور جنوبی فرانس کے ایک علاقہ میں اچانک ریشم کے کیڑے بکثرت مرنے لگے۔ لوئیس پاسچر اپنی تجربہ گاہ میں دن رات ایک کر دیا اور سائنسی معلومات کی بنیاد پر اس کی وجہ دریافت کرلی۔ یہی نہیں بلکہ چھ ماہ کے اندر اندر لوئیس پاسچر نے ریشم کے کیڑوں کی بیماری کا علاج بھی دریافت کرلیا۔
حفظانِ صحت کے اصولوں اور جراثیم سے متعلق نظریہ پیش کرنے والا لوئیس پاسچر دنیا کا پہلا سائنس داں تو نہیں تھا مگر وہ پہلا ماہرِ حیاتیات ضرور تھا جس کے تجربات اور تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر سائنس دانوں نے اس حوالے سے پیش رفت کی اور انسانوں کو بیماریوں سے بچانے میں مدد ملی۔
فرانس کا یہ سائنس داں اور موجد 28 ستمبر 1895ء کو اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا تھا۔
