میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟
دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا
کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟
بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
یمنی رہنما نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے آپریشنز کا اعلان کر دیا۔
یمن کی حکومتی کونسل کے سربراہ، رشاد العلیمی نے ملک میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم آج جمہوریہ کی باقی ماندہ اراضی کو واپس لینے اور ریاست و اس کے اداروں کی عملداری کو وسعت دینے کے لیے فوجی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔
اپنے ٹیلی وژن خطاب میں العلیمی کا کہنا تھا ہم حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود اپنے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یمنی مسلح افواج کے ساتھ تعاون کریں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق دی نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا اور تیسرے بڑے شہر تعز میں شدید لڑائی اور فضائی حملوں کے بعد ملک میں ایک بار پھر بھرپور جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یمنی سرکاری افواج کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز تعز کے اطراف کئی محاذوں پر شدید جھڑپیں ہوئیں جبکہ حوثی جنگجوؤں نے 3 دیہات پر قبضہ کر لیا۔
حوثی گروپ کے زیرِ انتظام ٹی وی کے مطابق صنعا اور تعز سمیت کم از کم 3 صوبوں پر فضائی حملے کیے گئے جن کا الزام سعودی قیادت میں قائم اتحاد پر عائد کیا گیا۔ یمنی حکومت کی حامی افواج کے ترجمان نے صنعا میں اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یمنی مسلح افواج کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 474 حملوں میں 1,540 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ سعودی قیادت میں اتحاد نے جنوبی سعودی عرب کی جانب داغے گئے 3 بیلسٹک میزائل روک لیے۔
