سعودی عرب نے اس کارروائی کا الزام حوثی جنگجوؤں پر عائد کیا ہے
بحیرہ احمر کی لہروں میں اگر جنگ کی تپش شامل ہو جائے تو اس کے اثرات صرف یمن اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کی زد میں وہ مقدس مقامات، عالمی تجارت کی شاہراہیں اور پورے خطے کا امن آ جاتا ہے جنھیں معمولی کشیدگی بھی غیر معمولی خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ مکہ مکرمہ کے قریب ایک ڈرون کی پرواز اور اسے سعودی فضائی دفاع کی جانب سے مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیے جانے کا واقعہ اسی وسیع تر بحران کی ایک نہایت حساس کڑی ہے۔
سعودی عرب نے اس کارروائی کا الزام حوثی جنگجوؤں پر عائد کیا ہے، جب کہ حوثیوں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کارروائیوں کے اہداف تیل کی تنصیبات اور فوجی مراکز ہوتے ہیں۔ اس سب کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ جنگ جب مقدس شہر کے قریب پہنچ جائے تو معاملہ محض دو فریقوں کی عسکری کشمکش نہیں رہتا بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات، حجاج و زائرین کی سلامتی اور علاقائی استحکام کا سوال بن جاتا ہے۔
مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش تشویشناک ہے ، یمن کی جنگ دوبارہ سعودی سرزمین، بالخصوص اہم شہری اور معاشی مراکز تک پھیل رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملوں، تیل کی تنصیبات کو لاحق خطرات اور سرحدی جھڑپوں نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ یمن کا بحران ایک محدود داخلی تنازع نہیں رہا۔ مکہ مکرمہ کے قریب کسی بھی نوعیت کی عسکری سرگرمی کی حساسیت اس لیے کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ یہ شہر کسی ایک ملک کی جغرافیائی حدود میں واقع محض ایک اہم مقام نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کی حفاظت کا معاملہ مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ ایک عظیم انسانی ذمے داری بھی ہے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اسی تناظر میں حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دیا ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ریاض اس معاملے کو اپنی قومی سلامتی سے آگے ایک غیر معمولی مذہبی اور بین الاقوامی ذمے داری کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
دوسری طرف حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیوں کے اہداف تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں، اگر یہ موقف تسلیم کیا جائے تو بھی سعودی شہری علاقوں اور حساس بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا پھیلاؤ خطے کے لیے خطرناک ہے اور اگر سعودی الزام درست ثابت ہوتا ہے تو مکہ کے قریب کارروائی ایک ایسی حد کو چھونے کے مترادف ہوگی جس کے بعد تصادم کی نوعیت مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ اسی لیے سفارت کاری کے ذریعے فوری کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کا موقف خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور حرمین شریفین کے تحفظ پر واضح اظہار دراصل پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کا تحفظ محض خارجہ پالیسی کا ایک معمولی باب نہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں مذہبی وابستگی، عوامی جذبات، اقتصادی روابط اور دفاعی تعاون ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،لیکن اسی کے ساتھ پاکستان کے لیے ایک دوسرا تقاضا بھی موجود ہے۔ خطے میں امن کے لیے سفارتی کردار کو فعال رکھنا۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی عزم اپنی جگہ، مگر یمن کے بحران کا مستقل حل محض عسکری طاقت سے ممکن نہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی ایسے مواقع پر یہ کوشش کی ہے کہ خلیجی ریاستوں اور ایران کے ساتھ تعلقات کو تصادم کے بجائے مکالمے کی سمت رکھا جائے۔ موجودہ صورتحال میں یہی متوازن سفارتی رویہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے ترجمان خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ اسلام آباد یمن میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے، جب کہ مکہ دفاعی معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں موجودہ بحران ایک اہم عملی امتحان بھی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ معاہدے نے باہمی دفاعی تعاون کو ایک نئے ادارہ جاتی فریم ورک میں داخل کیا ہے، تاہم اس معاہدے کی عملی تفصیلات ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہیں اور پاکستان نے حالیہ دنوں میں واضح کیا ہے کہ کسی فوری فوجی اقدام پر بات نہیں ہوئی۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو کسی فوری جنگی صف بندی کے طور پر دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری اور دفاعی تیاری کے درمیان توازن بنیادی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ ایک مضبوط دفاع جنگ روکنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر اگر دفاعی معاہدوں کی زبان فوری عسکری ردعمل کی طرف چلی جائے تو وہی بندوبست کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ مکہ کے قریب واقعہ اس امر کا متقاضی ہے کہ دفاعی تعاون کا مقصد کسی نئے محاذ کا قیام نہیں بلکہ شہریوں، مقدس مقامات اور ریاستی سلامتی کو خطرات سے محفوظ رکھنا ہو۔ پاکستان کے عسکری ترجمان نے بھی مکہ دفاعی اتحاد کو جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا چین پہنچنا اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات اس بحران کے ایک دوسرے پہلو کو سامنے لاتی ہے۔ چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں، زیر التوا معاملات پر بامعنی مذاکرات کی طرف واپس آئیں اور پہلے سے طے شدہ اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک کی بنیاد پر مذاکراتی عمل بحال کریں۔ بیجنگ نے خاص طور پر اس خدشے کو نمایاں کیا ہے کہ موجودہ کشیدگی یمن اور بحیرہ احمر تک مزید پھیل سکتی ہے۔
چین کا یہ موقف اس بحران کے معاشی پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز محض نقشے پر موجود سمندری راستے نہیں بلکہ عالمی توانائی، تجارت اور رسد کے اہم گزرگاہیں ہیں۔ ان راستوں میں عدم تحفظ کا مطلب تیل کی قیمتوں، جہاز رانی، عالمی تجارت اور بالآخر عام صارف کی معیشت پر دباؤ ہے۔ اس لیے یمن کا بحران جتنا طویل ہوگا، اس کے اثرات اتنے ہی وسیع دائرے میں پھیلیں گے۔ چین نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور توانائی و رسد کی عالمی زنجیر کو محفوظ بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
اس پس منظر میں ایران کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حوثی تحریک کے ساتھ ایران کے تعلقات طویل عرصے سے علاقائی سیاست کا اہم موضوع ہیں، اگرچہ ہر حوثی کارروائی کو براہ راست ایرانی حکم سے جوڑ دینا بھی پیچیدہ معاملے کو غیر ضروری طور پر سادہ بنا دیتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا تہران اپنے اثر و رسوخ کو کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے؟ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطے مضبوط ہوتے ہیں تو یمن سمیت کئی محاذوں پر تناؤ کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ چین کی موجودہ سفارتی سرگرمی اسی وسیع تر مکالمے کے لیے ایک ممکنہ راستہ فراہم کرتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کو کسی فریق کی سیاسی یا عسکری مہم کا حصہ بنانے کے بجائے پوری مسلم دنیا کی مشترکہ ذمے داری سمجھا جائے۔ مکہ مکرمہ کو تنازع کا میدان بننے سے روکنے کے لیے صرف سعودی فضائی دفاع کافی نہیں۔ یمن میں سیاسی تصفیہ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان موثر رابطہ، امریکا اور ایران کے مذاکرات، بحیرہ احمر کی سلامتی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان قابل اعتماد سفارتی رابطے بھی ضروری ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر مسلم ممالک کی مذمتیں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مذمت کے بعد سفارتی کوشش بھی سامنے آئے۔
آخرکار مکہ مکرمہ کے قریب ہونے والا یہ واقعہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ جنگ کی آگ جب پھیلتی ہے تو وہ بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔ پائیدار جواب وہی ہوگا جو یمن کے سیاسی مسئلے، سعودی عرب کی سلامتی، ایران کے علاقائی مفادات، عالمی تجارتی راستوں اور حرمین شریفین کے تقدس کو ایک ہی وسیع امن کے تناظر میں دیکھے۔ مکہ کی فضا میں امن پوری امت، پورے خطے اور عالمی معیشت کی ضرورت ہے۔ چین کی جانب سے مذاکرات کی واپسی پر زور اور پاکستان کی جانب سے دفاع کے ساتھ سفارت کاری پر اصرار اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موجودہ بحران کا راستہ جنگ کے مزید پھیلاؤ سے نہیں بلکہ ذمے دارانہ طاقت اور بامعنی مکالمے کے امتزاج سے نکل سکتا ہے۔
