اس المناک قومی ڈرامے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ میدان میں موجود کھلاڑی اسی معاشرے کے آغوش سے نکلے ہیں
پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سماجی منظرنامے پر نظر دوڑائی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پچیس کروڑ نفوس پر مشتمل ایک پورا ملک کسی بہت بڑے اسٹیڈیم میں بدل چکا ہے، جہاں تماشائیوں کی نشستوں پر بیٹھی ہوئی اکثریت بظاہر محض خاموش تماشائی ہے، جب کہ میدان میں موجود ایک مختصر سا مراعات یافتہ طبقہ پورے کھیل کے قواعد و ضوابط طے کر رہا ہے۔
یہ تماشائی کوئی نامعلوم یا الگ تھلگ مخلوق نہیں، بلکہ پاکستان کے وہ عام شہری ہیں جو مزدور، کسان، استاد، کلرک، چھوٹا تاجر، سفید پوش ملازم اور وہ بے شمار پڑھے لکھے نوجوان ہیں جو اپنی ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے روزگار کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہ وہ اکثریت ہے جو روزانہ اپنی محنت اور مشقت سے اس مملکت کا پہیہ چلاتی ہے، بلاواسطہ اور بالواسطہ ٹیکسوں کا سب سے بڑا بوجھ اپنے کمزور کندھوں پر اٹھاتی ہے، پیداواری عمل کو زندہ رکھتی ہے اور ہر معاشی بحران کے پہلے ہدف کے طور پر قربانی دیتی ہے، مگر جب قومی سمت، معاشی ترجیحات اور بنیادی پالیسیوں کی تدوین کا وقت آتا ہے تو اس کی آواز ایوان اقتدار کی بلند دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ دیتی ہے اور اسے صرف فیصلوں کے نتائج بھگتنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اس المناک قومی ڈرامے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ میدان میں موجود کھلاڑی اسی معاشرے کے آغوش سے نکلے ہیں، مگر اقتدار کے ایوانوں اور سیاسی اشرافیہ کی صفوں میں شامل ہوتے ہی وہ عوام کی حقیقتوں سے دور ایک الگ ہی دنیا میں بسنے لگتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ معاشی اور انتظامی بندوبست نے ایک ایسا طبعی و سماجی فاصلہ قائم کر دیا ہے جہاں حکمران طبقات کے فیصلے اور عوام کی تلخ حقیقتیں ایک دوسرے کے متضاد سمتوں میں سفر کرتی نظر آتی ہیں۔ عوام کے لیے مہینے کی پہلی تاریخ خوشی کے بجائے شدید معاشی خوف کا پیامبر بن کر آتی ہے، جہاں تنخواہ کے ہاتھ میں آتے ہی بجلی، گیس، مکان کے کرائے، بچوں کی تعلیمی فیس، راشن اور ادویات کے ناقابل برادشت اخراجات کا ایک ایسا اژدھام سامنے کھڑا ہوتا ہے جس کے سامنے محدود آمدنی چند ہی دن میں دم توڑ دیتی ہے۔
اس کے بعد شرو ع ہوتا ہے ادھار، قرض، ضرورتوں میں کٹوتیوں اور خواہشوں کی تدفین کا وہ لامتناہی سلسلہ جس میں انسان اپنی زندگی کو بنیادی انسانی وقار کے مطابق نہیں بلکہ مجبوری اور مایوسی کے سخت قوانین کے تحت ڈھالنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ معاشی بیگانگی صرف اعداد و شمار کے اعداد تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا اثر انسانی رشتوں، جذباتی بندھنوں اور فرد کی خودداری پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ جب ایک ماں بچوں کے لیے نوالہ پورا کرنے کی خاطر اپنے حصے کی خوراک ترک کر دیتی ہے، جب ایک غیرت مند باپ خاندان کے بجٹ پر بوجھ بننے کے خوف سے اپنی موذی بیماری کو چھپاتا ہے، جب ایک باپ کے سامنے اس کا نوجوان بیٹا نوکری کے نہ ملنے کی نوید سناتا ہے یا جب ایک سفید پوش شخص دنیا کے سامنے اپنی بے بسی کے اظہار کے ڈر سے خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا ہے، تو یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سطح پر بننے والی معاشی پالیسیاں عام شہری کو کس قدر مفلوج کر چکی ہیں۔
پاکستان میں بے روزگاری اور مہنگائی محض ایک عارضی معاشی دشواری کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا ساختی بحران ہے جس نے معاشرتی مساوات کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جن کے پاس سرمایہ، طاقت، نجی روابط اور مراعات یافتہ طبقے تک رسائی موجود ہے، ان کے لیے ہر قومی بحران نئے کاروباری مواقع اور منافع خوری کے دروازے کھولتا ہے، جب کہ محنت کش اور متوسط طبقے کا فرد کسی بھی معمولی معاشی جھٹکے کے نتیجے میں خط ِ غربت سے نیچے گرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ طبقاتی تقسیم اس وقت مزید گہری اور لامتناہی روپ دھار لیتی ہے جب تعلیم، جو کہ معاشرتی ترقی اور افقی حرکت (Social Mobility) کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتی تھی، خود طبقاتی نظام کا آلہ کار بن جاتی ہے۔
ایک طرف مراعات یافتہ طبقے کا بچہ ہے جس کے لیے جدید ترین نصاب، عالمی زبانیں، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی نیٹ ورکنگ کے تمام راستے کھلے ہیں، جب کہ دوسری طرف ایک عام شہری کا بچہ ہے جو ایسے تعلیمی اداروں میں پڑھنے پر مجبور ہے جہاں امتحان پاس کرنے کی حد تک تو سند مل جاتی ہے لیکن روزگار کی جدید مارکیٹ کی مسابقتی فضا میں کھڑے ہونے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں سند یافتہ بے روزگاروں کی ایک ایسی فوج تیار ہو رہی ہے جو اپنے سنہرے خوابوں کو پامال ہوتے دیکھنے کے علاوہ کچھ کرنے سے قاصر ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ یعنی اس کا انسانی سرمایہ (Human Capital) ضایع ہو کر مایوسی، انتشار اور بے چینی کی نذر ہو جاتا ہے۔
