• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 2:58 صبح
  • پاکستان

ایک مرتبہ جب سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا تو میڈیا والے سرکاری افسر سے معلومات لینے پہنچے کہ انھوں نے خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا کیا انتظامات کیے ہیں۔

ایک مرتبہ جب سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا تو میڈیا والے سرکاری افسر سے معلومات لینے پہنچے کہ انھوں نے خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا کیا انتظامات کیے ہیں۔ افسر نے جلدی سے سیلاب کی نشاندہی کرنے والے نشان کو مزید پیچھے لے جا کر لگا دیا اور کہا کہ ’’ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لہٰذا فی الحال کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

کہنے کو تو یہ ایک لطیفہ ہے، مگر اس قسم کے لطیفے ہماری حقیقی زندگی میں بھی نظر آتے ہیں ،یہاں تک کہ ہمارے پالیسی ساز بھی کچھ ایسے ہی کارنامے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً تعلیمی پالیسی میں اس سال ایک بڑی تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت طلبہ کے پاسنگ مارکس 33 سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیے گئے تھے، شاید پالیسی سازوں نے سوچا ہوگا کہ اس سے تعلیمی معیار بڑھے گا مگر اس کا نتیجہ کیا نکلا؟حال ہی کی ایک خبر ہے کہ کراچی بورڈ کے نویں جماعت کے جنرل گروپ کے نتائج میں تمام پرچے پاس کرنے والے امیدواروں کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد مزید کم ہو گئی ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال 64 فیصد امیدوار فیل ہوئے ہیں۔

حقیت تو یہ ہے کہ ہمارے سرٹیفکیٹس اور تعلیمی ڈگریاں مارکیٹ کے حساب سے کسی کام کی نہیں، صرف فائل کا پیٹ بھرتی ہیں، یعنی ملازمت کے لیے انٹرویو میں شرکت کے قابل ہونے کے لیے بس، یعنی تعلیم کا معیار یہ ہے کہ یہ ہماری مارکیٹ کی ضرورت بھی پوری نہیں کر رہی۔ آج بھی فارم ڈی کرنے والا ایک طالب علم اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر تو لکھ لیتا ہے، مگر اس کی ابتدائی تنخواہ تقریباً 50 ہزار ہوتی ہے۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ملازمت کے لیے انٹرویو لینے والا یہ دیکھتا ہے کہ امیدوار اس کے ادارے کے لیے کس قدر بہتر ثابت ہو سکتا ہے اور اسے اس حوالے سے کیا کچھ آتا ہے کہ وہ اس کے ادارے کے بزنس میں مددگار ثابت ہو۔ مثلاً ایک اخبار کے سینئر ایڈیٹر نے دوران انٹرویو جب امیدوار سے یہ سنا کہ اس نے یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن لی ہے اور گولڈ میڈل حاصل کیا ہے تو اخبار کے اس ایڈیٹر نے اس سے کہا کہ ’’گولڈ میڈل ہمارے کسی فائدے کا نہیں، اگر آپ کو خبر بنانا آتی ہے تو ٹھیک ہے، آپ کو ملازمت مل جائے گی، ورنہ آپ ہمارے کسی کام کے نہیں۔‘‘

ایک وقت تھا ،جب ہم سنتے تھے کہ کوئی فرسٹ کلاس میں پاس ہوا ہے یا سیکنڈ کلاس میں پاس ہوا ہے۔ پھر ڈویژن کا ہم نے سنا کہ کوئی فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوتا ہے، کوئی سیکنڈ میں، کوئی تھرڈ میں۔ اس کے بعد گریڈ ہمارے سامنے آئے کہ کس گریڈ میں آپ نے میٹرک کیا ہے؟ اے؟ بی؟ سی؟ ڈی؟ اور پھر گریڈ میں بھی اضافہ ہوا، اے سے پہلے ’’اے پلس‘‘ کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد جامعات کی سطح پر گریڈ پوائنٹ ایوریج یعنی ’’جی پی اے ‘‘ متعارف کرایا گیا۔ بات اس پر بھی ختم نہیں ہوئی، پھر کئی سمسٹرز کے مجموعی مارکس نکالنے کے لیے ’’سی جی پی اے ‘‘ متعارف کرایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ان سب کا مقصد کیا ہے؟

اسی طرح سے ایک اور تعلیمی پالیسی کے تحت بی اے اور بی کام کی ڈگری کا نام تبدیل کر کے بالترتیب ’’اے ڈی اے ‘‘ اور ’’اے ڈی سی‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔گو کہ اس کے نصاب میں پہلے کی نسبت کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں، مگر عملی طور پر اس کے نتائج کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔ گویا یہ تبدیلی صرف نام کی تبدیلی رہ گئی ہے۔ اسی طرح اس سے قبل جامعات کی سطح پر ’’آنرز‘‘ کا نام تبدیل کر کے ’’بی ایس‘‘ نام کا پروگرام متعارف کرایا گیا تھا، جس کا کوئی فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، مگر پاس ہونے والے طلبہ کو اس وقت پریشانی ہوئی جب مختلف اداروں میں ان کے ’’سی وی‘‘ میں لفظ بی ایس دیکھ کر یہ سمجھا گیا کہ شاید یہ بیچلر لیول کی کوئی ڈگری ہے، لہٰذا انھیں انٹرویو کے لیے بلایا نہیں جاتا تھا۔ یوں طلبہ نے یہ صورتحال دیکھی تو اس پر احتجاج شروع کیا اور پھر یونیورسٹی نے طلبہ کو اختیار دے دیا کہ آپ جو چاہیں، یعنی جس نام کی چاہیں ڈگری لے سکتے ہیں، آنرز یا بی ایس۔

یہاں مجھے ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے جو کسی لطیفے سے کم نہیں مگر اس میں بھی حقیقت پنہاں ہے۔ میں ایک بار کسی سرکاری دفتر میں گیا، جن صاحب سے مجھے کام تھا، وہ کرسی پر موجود نہیں تھے، جب کہ ان کی میز پر چاروں طرف فائلوں کا ایک ڈھیر لگا تھا۔ میں ان کا انتظار کر رہا تھا، گھنٹوں انتظار کیا۔ وہ صاحب آئے، ایک منٹ کے لیے اور انتظار کرنے کا کہہ کر پھر چلے گئے۔ پھر آئے تو لنچ کا وقت ہو گیا۔ کہنے لگے’’ لنچ کے بعد آپ کا کام کرتا ہوں‘‘ چنانچہ ایک گھنٹے بعد پھر ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے ہماری فائل تلاش کرنے کی کوشش کی اور کئی الماریاں کھولیں، پھر بند کر دیں۔ پھر میز پر رکھی فائلیں دیکھیں، پھر کوئی الماری کھولی، اس میں سے ایک فائل نکالی اور جھاڑ کر ہماری طرف دیکھا۔ پھر اس میں سے ایک کاغذ نکالا کہ’’ آپ اس کی فوٹو کاپی کرا لیں‘‘ میں خوش ہو گیا کہ چلو، ان صاحب نے کام تو کر دیا۔پھر میں فوٹو کاپی کروا کر واپس انھیں کاغذ دینے آیا تو معلوم ہوا کہ وہ صاحب پھر اپنی کرسی پر نہیں ہیں۔ پھر تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کیا۔ اتنے میں چھٹی کا وقت ہو گیا۔ وہ صاحب آئے اور مجھ سے کاغذ لے کر فائل میں لگا دیا اور گھر جانے کی تیاری کرنے لگے۔ میرے ساتھ جو میرے دوست تھے، وہ کہنے لگے۔’’ یار! ہم صبح سے اس کے چکر میں خوار ہو گئے، یہ تو کرسی پر ہی نہیں بیٹھتا اور میز پر فائلیں اتنی رکھی ہوئی ہیں، جیسے اس نے پتا نہیں کتنا کام کیا ہو۔‘‘

میں نے اپنے دوست سے کہا ’’ کیا آپ نے گورنمنٹ اداروں کا وہ مقولہ نہیں سنا۔Look busy do nothing. یعنی بظاہر مصروف رہو، جیسے بہت کام کر رہے ہو، مگر حقیقت میں کچھ بھی نہ کرو۔ یہی کچھ صورتحال ہماری تعلیمی پالیسی میں نظر آتی ہے کہ جہاں بظاہر بہت کچھ ہو رہا ہے مگر حاصل کچھ نہیں ہو رہا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے