کیرئیر پہ توجہ اور بڑھتے اخراجات کے باعث بھارتی جوڑے اولاد پیدا کرنے سے گھبرانے لگے
نِدھی اگروال نے شادی کے فوراً بعد شریکِ حیات سے مل کر بچے نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ نو سال بعد بھی وہ اپنے اس فیصلے پر قائم ہے۔بھارتی ٹیک دارالحکومت ،بنگلورو میں پبلک ریلیشنز کمپنی چلاتی 41 سالہ نِدھی کہتی ہے ’’شادی سے پہلے ہم نے کبھی بچوں کے بارے میں بات نہیں کی۔
مالیات اور اپنے کیریئر کے اہداف پر ہی گفتگو ہوتی۔ شادی کے بعد ہم نے بچوں کے بارے میں گفتگو کی اور ہم نے محسوس کیا کہ بچے پالنے کے بجائے اپنے کیریئر پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے اور ایسی کمپنیاں بنائیں جو معاشرے پر بڑا اثر ڈال سکیں۔‘‘
یہ ایک آسان فیصلہ نہیں تھا۔ وہ کہتی ہے ’’میری بڑی بہن غیر شادی شدہ ہیں، اس لیے خاندان کی طرف سے مجھ پر دباؤ تھا کہ میرے بھی بچے ہونے چاہیئں۔ لیکن بچے نہ ہونا ہمارا ذاتی انتخاب تھا کیونکہ ہم نے محسوس کیااور اب بھی کرتے ہیںکہ ہمارے زندگی کے اہداف زیادہ بڑے ہیں۔‘‘
اس فیصلے میں وہ اکیلے نہیں، پوری دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت بھر میں، جہاں دہائیوں سے آبادی میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے، بہت سے نوجوان اب کم بچے پیدا کرنے یا بالکل بچے نہ ہونے کا انتخاب کر رہے ہیں۔حکومتی اعداد و شمار بشمول "سیمپل رجسٹریشن سسٹم" (SRS) کی شماریاتی رپورٹ کے مطابق جو ملک کا سب سے بڑا ڈیموگرافک سروے ہے،بھارت میں کچھ سال سے شرحِ پیدائش میں کمی آ رہی ہے۔ لیکن افزائشِ نسل کی شرح اب تک اتنی زیادہ تھی کہ آبادی بڑھتی رہی۔
اب رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے دفتر سے جاری کردہ تازہ ترین ایس آر ایس رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت میں کل شرحِ زچگی (TFR) گر کر 1.9 بچے فی عورت رہ گئی ہے جو موجودہ سطح پر آبادی برقرار رکھنے کے لیے ضروری 2.1 کی بنیادی سطح سے کم ہے۔ کل شرحِ زچگی ان بچوں کی اوسط تعداد ہے جو ایک عورت سے اس کی پوری زندگی میں توقع کی جاتی ہے۔ 2000ء کی دہائی میں بھارت میں یہ شرح تقریباً 3.3 بچے فی عورت تھی۔ماہرین کا کہنا ہے ، تعلیم تک بہتر رسائی اور مانعِ حمل تدابیر کے علاوہ بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات شرحِ پیدائش میں کمی کی اہم وجوہ ہیں۔
بنگلورو کی ایک ماہرِ امراضِ نسواں، ڈاکٹر جیوٹسنا مرلے کہتی ہیں کہ تعلیم کی اعلیٰ سطح اور عالمگیریت (globalisation) کا مطلب یہ ہے کہ آج کی نوجوان خواتین میں شادی اور بچوں کی اہمیت سے متعلق روایتی بیانیے قبول کرنے کے امکانات اپنی ماؤں اور دادیوں کے مقابلے میں کم ہیں۔ وہ اس سوچ سے دور ہو رہی ہیں کہ آپ زندگی میں صرف تبھی سیٹل محسوس کریں گی اگر شادی کریں اور بچے پیدا کریں گی۔‘‘
ان کا کہنا ہے’’ایسے بیانیے نے بھارتی عورت کو یہ محسوس کرایا کہ اسے اپنا کیریئر ایک طرف رکھ کر بچے پیدا کرنے ہیں۔ اب اس بیانیے کی تمام تر اہمیت ختم ہو چکی ۔ 30 سے 40 سالہ خواتین کو یہ معقول نظریہ نہیں لگتا جو تعلیم کی وجہ سے زیادہ بااختیار اور مالی آزادی رکھتی ہیں اور جو انہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہے کہ آیا وہ بچے چاہتی ہیں یا نہیں۔‘‘
ان کا کہنا ہے کہ جو جوڑے ان کے پاس مشورے کے لیے آتے ہیں، وہ اپنے کیریئر مدنظر رکھ کر بچے پیدا کرنے کے فیصلے کر رہے ہیں۔’’میں نے ایسے جوڑوں کو سوال کرتے دیکھا ہے کہ جب وہ اپنے کیریئر میں اچھا کر رہے ہیں تو بچے کیوں پیدا کریں؟ وہ اکثر اس الجھن میں ہوتے ہیں کہ آیا بچے ان کی زندگی میں کوئی قدر کا اضافہ کریں گے یا یہ صرف معاشرے میں فٹ ہونے کی ایک ضرورت ہے۔‘‘
بہت سی بھارتی خواتین جو اپنے کیریئر کو ترجیح دینا چاہتی ہیں، اپنے بیضے منجمند کروانے کا انتخاب بھی کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں 2 ہزار سے زیادہ ایسے فرٹیلیٹی سینٹر ہیں جو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔ماریا بنگلورو میں 38 سالہ فری لانس میک اپ آرٹسٹ ہے۔ کہتی ہے کہ اس کی کچھ سہیلیوں نے اپنے بیضے منجمد کروانے کا انتخاب کیا ہے تاکہ وہ اپنے کیریئر کے اہم موڑ پر یا مناسب شریکِ حیات نہ ملنے کی صورت میں بچہ پیدا کرنے کا دباؤ محسوس نہیں کریں۔اس کا کہنا ہے ’’میرے خیال میں اس امر نے بہت سی خواتین کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ ماں میں جلدی نہ کریں اور اسے اس وقت اپنائیں جب وہ بچے کا خرچ اٹھا سکیں یا ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ زبردست ہے کہ یہ طریقہ کار زیادہ قابلِ قبول اور دستیاب ہو گیا ہے۔‘‘
اگرچہ کیریئر کا انتخاب اور تعلیم یہ طے کر رہے ہیں کہ بچے کب یا پیدا کیے جائیں یا نہیں، ملک میں زندگی کے بڑھتے اخراجات بھی بہت سے بھارتی نوجوان جوڑوں کے لیے ایک اہم عنصر بن چکے۔بھارت اس وقت افراطِ زر (مہنگائی) کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو اس سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق 2025 ء میں ایک بھارتی کی اوسط سالانہ آمدنی 2878 ڈالریا تقریباً 240 ڈالر ماہانہ تھی۔ لیکن زندگی کے اخراجات سے متعلق دنیا کے سب سے بڑے ڈیٹابیس، نمبیو کے مطابق جون 2026 ء تک ہندوستان میں ایک شخص کے تخمیناً ماہانہ اخراجات (کرائے کے علاوہ) 290.40 ڈالر تک پہنچ چکے۔
ایک بڑی الیکٹرانکس کمپنی میں 36 سالہ ٹیم لیڈر، روپا کے لیے بچے پیدا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے وقت زندگی کے بلند اخراجات اہم تشویش بن گئے ہیں۔ اگرچہ اس کی ابھی شادی نہیں ہوئی، لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس نے والدہ کو اپنی اور اپنے بھائی کی پرورش کے لیے ہاؤس کیپر کے طور پر گھنٹوں کام کرتے دیکھ کر پرورش پائی ہے۔ روپا صرف اسی صورت بچے چاہتی ہیں جب وہ مالی طور پر خود کو محفوظ بنا لے۔
وہ کہتی ہے ’’ہم میں سے اکثر اپنے بچوں کو بہترین معیارِ زندگی فراہم کرنا چاہتے ہیں، جس میں مناسب تعلیم اور مستقبل میں ترقی کے مواقع شامل ہیں۔لیکن اب زندگی کے بڑھتے اخراجات کی وجہ سے کئی لوگ خاندان بڑھانے سے پہلے اپنے مالی استحکام اور کیریئر کے اہداف پر غور کرنے کے لیے وقت لینا چاہتے ہیں۔‘‘لوتھرا کہتی ہے کہ بہت سے نوجوان خاندان بنانے کی اُمید ہی چھوڑ چکے اور اس کے بجائے اپنا طرزِ زندگی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
بھارت میں بہت سے نوجوان بچے پیدا کرنے کے بجائے تعطیلات پر جانے یا ہر ویک اینڈ پر باہر جا کر کھانے پینے پر اپنے پیسے خرچ کرتے ہیں۔ مہینے کے آخر میں جو رقم ان کے پاس بچتی ہے، وہ کرائے اور دیگر بلوں میں چلی جاتی ہے۔ماہرین نے تاریخی طور پر دیکھا ہے کہ جیسے ہی کسی آبادی میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح گرے، مزید بچے پیدا کرنے کی خواہش میں بھی کمی آنے لگتی ہے۔ایسا ہی منظرنامہ بھارت میں بھی سامنے آ رہا ہے۔
بہت سے واقعات میں چاہے ایک جوڑا بچے پیدا کرے یا نہ کرے، اس کا انحصار خواتین کو دستیاب عملی اختیارات پر ہوتا ہے۔اس سلسلے میںڈاکٹر شرما مرلے کا کہنا ہے’’آج مانعِ حمل گولیوں کے انتخاب اور ان کا حصول بہت آسان ہو گیا ہے، چاہے وہ میڈیکل اسٹور ہو یا ابتدائی طبی مرکز۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اس تبدیلی نے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کی خواتین کو بھی بچے پیدا کرنے سے متعلق باخبر فیصلے کرنے کا موقع دیا ہے۔‘‘
مزید کہتی ہیں کہ بہت سی خواتین یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی تعداد کا انتخاب کر رہی ہیں کہ ان کے ارد گرد کس قسم کی دیکھ بھال کا نظام دستیاب ہے۔’’اگر آپ بھارت میں روایتی سماجی نظام دیکھیں، تو نوجوان جوڑوں کے پاس ان کے والدین ہوتے ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال میں مدد کرتے ہیں۔ لیکن اگر وہ بڑی عمر میں بچے پیدا کرنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو یہ حمایتی نظام ضروری نہیں کہ موجود ہو۔تب انہیں نینی یا ڈے کیئر سینٹر کا سہارا لینا پڑے گا جو کافی مہنگا ہو سکتا ہے۔‘‘
انسانی حقوق کی وکیل ،لوتھرا نشاندہی کرتی ہیں کہ کمپنیاں اپنے ملازمین کو کس طرح کی سہولیات دیتی ہیں، یہ بات بھی بچوں کی پیدائش سے متعلق ان کے فیصلے پر اثر انداز ہوتی ہے۔بھارت میں ملازمت پیشہ خواتین اپنے پہلے دو بچوں کے لیے 26 ہفتوں کی باقاعدہ تنخواہ کے ساتھ رخصت، تیسرے اور بعد کے بچوں کے لیے 12 ہفتوں اور گود لیے گئے بچوں کے لیے 12 ہفتوں کی رخصت کی حقدار ہیں۔ جہاں تک والد کی رخصت کا تعلق ہے، وفاقی سرکاری ملازمین قانونی طور پر 15 دن کی تنخواہ کے ساتھ رخصت کے حقدار ہیں، لیکن پرائیویٹ سیکٹر میں ایسا کوئی وفاقی قانون نہیں ۔
لوتھرا کہتی ہیں ’’میں ایک دوست کے واقعے کو جانتی ہوں جس نے اپنے آجر سے کہا کہ وہ کچھ وقت کی چھٹی لینا چاہتا ہے کیونکہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ آجر نے جواب دیا: نینی اور ڈے کیئر کس لیے ہوتے ہیں؟اس قسم کا بیانیہ کام کرنے والے جوڑوں کے لیے بچوں سے متعلق فیصلہ کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔‘‘
بھارت میں جہاں شیر خوار بچوں میں اموات کی شرح کم ہو رہی ہے، وہیں بانجھ پن (حاملہ نہ ہو سکنے کی نااہلی) بڑھ رہی ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں بانجھ پن کی شرح 1992-93ء میں 22.4 فیصد سے بڑھ کر 2015.16ء میں 30.7 فیصد ہو گئی ہے۔ڈاکٹر مرلے کے مطابق اس کا کچھ تعلق ابتر طرزِ زندگی کے انتخاب سے ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’بانجھ پن کا نشانہ بنے بہت سے لوگوں کی میٹابولک صحت خراب ہے، وہ موٹاپے اور ہارمونل عدم توازن سے پریشان ہیں اور یہ تمام چیزیں حمل ٹھہرنے کو مشکل بنا دیتی ہیں۔‘‘انہوں نے نوٹ کیا کہ اگرچہ ملک بھر میں بانجھ پن کے علاج کے کلینک کھل گئے ہیں، لیکن فرٹیلیٹی کے علاج کافی مہنگے ہیں۔اسی لیے بہت سے جوڑے ان سے رجوع نہیں کرتے۔
اگرچہ بھارتی حکومت نے ابھی تک ملک میں گرتی ہوئی شرحِ پیدائش سے نمٹنے کے لیے کسی قومی پالیسی کا اعلان نہیں کیا لیکن ریاستیں لوگوں کو مزید بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ریاست اندھرا پردیش میں جہاں شرحِ پیدائش فی عورت 1.4 بچے پر اٹکی ہوئی ہے، حکومت نے تیسرے بچے کی پیدائش پر جوڑوں کو 30 ہزار روپے (315 ڈالر) اور چوتھے بچے پر 40 ہزار روپے (420 ڈالر) دینے کی پیشکش کی ہے۔مغرب میں گوا اور جنوب میں کرناٹک اور تلنگانہ جیسی ریاستوں نے پہلی بار والدین بننے والوں کے لیے سرکاری مالی اعانت سے IVF سینٹرز قائم کیے ہیں تاکہ لوگوں کو مزید بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
ڈاکٹر مرلے کے مطابق اگر حکومت بھارت میں گرتی ہوئی شرحِ زچگی سنبھالنے کے بارے میں سنجیدہ ہے، تو اسے مزید سوالات پوچھنے چاہئیں، مثلاً یہ کہ لوگ بچے کیوں نہیں پیدا کر رہے ؟وہ کہتی ہیں’’جب ایک جوڑا بچے پیدا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے، تو یہ ایک باخبر فیصلہ ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت کا ان سے مزید بچے پیدا کرنے کا کہنا رائے بدلنے کا امکان بہت کم رکھتا ہے۔اس لیے میرے خیال میں حکومت کو یہ سوالات پوچھنے چاہئیں کہ 30 اور 40 سالہ جوڑوں کے لیے حاملہ ہونا اتنا مشکل کیوں ہو جا رہا ہے؟‘‘
بنگلورو کی نِدھی اگروال کے نزدیک حکومت کے علاوہ مجموعی طور پر بھارتی معاشرہ بھی خاندانی منصوبہ بندی کے اختیارات کا احترام کرنے میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔’’جب میں لوگوں کو بتاتی ہوں کہ میں نے اور میرے شریکِ حیات نے بچے نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو مجھے اب بھی عجیب و غریب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگ ہمارے پیچھے باتیں اور سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم دونوں میں سے کسی کو کوئی طبی مسئلہ ہے جس نے ہمیں بچے پیدا کرنے سے روک دیا۔ خاندانی تقاریب میں کچھ لوگ ہمارے فیصلے کی وجہ سمجھ ہی نہیں پاتے۔ میں سمجھتی ہوں افزائشِ نسل کرنا ایک ذاتی انتخاب ہے اور اسے ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لوگوں کو یہ انتخاب سمجھنے میں وقت لگ سکتا ہے مگر معاشرے کو اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘
