انسداد دہشتگردی عدالت نے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کردی۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کے وکالت نامے پیش نہ کرنے اور انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش نہ کرنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ضمانت کی درخواستیں دائرکرنےکے لیے ایمان مزاری اور ہادی علی کے وکالت نامے نہ ملنے کے کیس کی سماعت کی۔
اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے دونوں وکلا کے وکالت نامے آج بھی دستخط کراکر نہ دیے جاسکے جب کہ جیل حکام کی جانب سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا تاہم شیریں مزاری اور دیگر وکلا کثیر تعداد میں عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالتی حکم کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی کو ویڈیولنک کے ذریعے بھی پیش نہ کیاجاسکا جس پر عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
جج طاہرعباس سِپرا نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل جواب دیں کیوں نہ 6 ماہ کے لیے سزا دی جائے؟ سپرنٹنڈنٹ جیل نہ عدالتوں کو دیوار کے ساتھ لگائیں نہ اپنےآپ کو دیوار کےساتھ لگائیں۔
عدالتی عملے نے بتایا کہ ابھی ایمان مزاری اور ہادی علی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہیں کررہے، جیل حکام بتا رہے ہیں انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے، اس پر جج نے کہا کہ ایک کیس میں انٹرنیٹ کا مسئلہ تھا، بار بار جیل حکام بتا رہے تھے نیٹ ٹھیک نہیں چل رہا، پہلے پی ٹی سی ایل پھراین ٹی سی کو میں نےآرڈرکیا تھا کہ ماہرین جیل جائیں، ہری پور سے ماہرین کوجیل بھیجنے کا حکم دیا تھا، وکالت نامے ملنا تو ملزم کو بنیادی حق ہے۔
بعد ازاں عدالت نے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کردی۔
